1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آج کا اسرائیل اور نازی جرمنی: فوجی جنرل کے بیان پر ہنگامہ

آج کے اسرائیل اور نازی جرمنی کے حالات میں بظاہر مماثلت کا تاثر دینے والے اپنے ایک بیان کے باعث اسرائیلی فوج کے نائب سربراہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کابینہ کی وزیر مِیری ریگیو نے جنرل گولان کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

Israel Benjamin Netanjahu Fahne

جنرل یائر گولان کا تبصرہ ایک غلطی تھی، وزیر اعظم نیتن یاہو

یروشلم سے اتوار آٹھ مئی کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق بہت متنازعہ ہو جانے والا یہ بیان اسرائیلی فوج کے ڈپٹی چیف آف سٹاف میجرل جنرل یائر گولان نے ابھی حال ہی میں دیا تھا۔

میجرل جنرل گولان نے اپنے اس بیان میں جو بات کہی تھی، اس سے تاثر یہ ملتا تھا کہ جیسے وہ موجودہ اسرائیل کو بظاہر اس نازی جرمن دور کی فضا سے مماثل قرار دے رہے ہوں، جب ہولوکاسٹ یا یہودیوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔

فوج کے نائب سربراہ نے ملک میں ہولوکاسٹ میموریل ڈے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ’آج کے اسرائیل میں ایسے شواہد نظر آتے ہیں، جو متلی پر مجبور کر دینے والی ان کارروائیوں کی یاد دلاتے ہیں، جو نازی جرمن دور میں کی گئی تھیں‘۔

جنرل گولان کے اس بیان پر اسرائیل میں فوراﹰ شدید تنقید شروع ہو گئی تھی اور اس بلند آواز تنقید میں یہودی قوم پسند سب سے آگے تھے۔ اس واقعے کے بعد ملکی وزیر دفاع، فوج کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام میجر جنرل گولان کے حق میں بولنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ان شخصیات نے کھل کر کہا تھا کہ Yair Golan نے اپنے موقف کے ساتھ دراصل اسرائیلی معاشرے میں پائے جانے والے پریشان کن رجحانات کے خلاف صرف تنبیہ کی ہے۔

Miri Regev

ڈپٹی چیف آف سٹاف گولان کو برطرف کیا جائے، کابینہ کی وزیر مِریم ریگیو کا مطالبہ

لیکن اس پر بھی اسرائیل میں اس موضوع پر بحث ختم نہ ہوئی اور کابینہ کی وزیر مِیری ریگیو Miri Regev نے تو یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ یائرگولان کو برطرف کیا جانا چاہیے۔ ملکی پارلیمان کی موجودہ رکن مِیری ریگیو کا تعلق لیکوڈ پارٹی سے ہے اور وہ ماضی میں ملکی فوج کی ترجمان کے طور پر بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔

اسرائیلی فورسز کے ڈپٹی چیف آف سٹاف کے حالیہ بیان پر آج اتوار کے روز ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی سرعام تنقید کی اور ان کے موقف کو رد کر دیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ہولوکاسٹ کے یادگاری دن کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل یائر گولان سے غلطی ہو گئی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیتن یاہو نے ملکی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں جنرل گولان کے تبصرے کو غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا، ’’ایسے بیانات سے اسرائیل کو نقصان پہنچتا ہے اور ہولوکاسٹ کی خوفناکی کم ہو جاتی ہے۔‘‘

DW.COM