آج نوے فیصد بچے ترقی پذیر ممالک میں پیدا ہوں گے، یونیسیف | معاشرہ | DW | 01.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آج نوے فیصد بچے ترقی پذیر ممالک میں پیدا ہوں گے، یونیسیف

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کے اندازوں کے مطابق نئے سال کے پہلے دن دنیا بھر میں قریب تین لاکھ نوّے ہزار بچے جنم لیں گے۔ ان بچوں میں سے نوّے فیصد سے زائد کی ولادت ترقی پذیر ممالک میں ہو گی۔

Angola flüchtchtlings Kinder aus Kongo (UNICEF/N. Wieland)

یونیسیف کے تخمینوں کے مطابق سن 2016 میں ہر روز چھبیس ہزار بچے اپنی پیدائش کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ہلاک ہو جاتے تھے

عالمی سطح پر انسانی آبادی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں یونیسیف کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار کی رُو سے یکم جنوری سن 2018 کو پیدا ہونے والے تین لاکھ نوّے ہزار کے لگ بھگ بچوں میں سے نصف کا تعلق نو ممالک سے ہو گا۔ ان ملکوں میں چین، بھارت، پاکستان، نائجیریا، امریکا، عوامی جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔

یونیسیف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان نومولود بچوں میں سے زیادہ تر زندہ رہیں گے لیکن کئی ایک ایسے بھی ہوں گے، جن کی زندگی ایک دن سے زیادہ نہیں ہو گی۔

یونیسیف کے تخمینوں کے مطابق سن 2016 میں ہر روز چھبیس ہزار بچے اپنی پیدائش کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ہلاک ہو جاتے تھے۔ عالمی ادارہ برائے اطفال کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریباﹰ دو ملین نومولود بچوں کے لیے اُن کی زندگی کا پہلا ہفتہ ہی آخری ثابت ہوا اور تب مجموعی طور پر دو اعشاریہ چھ ملین بچے پیدائش کے بعد ایک ماہ پورا ہونے سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔

بچوں کی بہبود کے اس عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ انتقال کر جانے والے ان بچوں میں سے اسّی فیصد ایسی وجوہات اور بیماریوں کی بنا پر ہلاک ہوئے جن کو بر وقت علاج سے دور کیا جا سکتا تھا۔ ان وجوہات میں وقت سے پہلے پیدائش، پیدائش کے دوران پیچیدگیاں یا پھر خون یا پھیپھڑوں کی انفیکشن زیادہ اہم تھیں۔

یونیسیف کے بچوں کی صحت کے ماہر سٹیفن پیٹرسن کے مطابق، ’’نئے سال میں یونیسیف کا ہدف یہ ہو گا کہ ہر نومولود بچے کو صحت مند زندگی دینے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔‘‘ پیٹرسن نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاکھوں نومولود بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اس جنگ میں یونیسیف کے ساتھ شریک ہوں۔

DW.COM