1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آج جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی 25 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے پچیس برس مکمل ہونے پر جرمنی کو آج یورپ کی سب سے بڑی اقتصادیات اور عالمی سطح پر ایک بااثر ملک کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ سابقہ مغربی اور مشرقی جرمنی کا اتحاد تین اکتوبر سن 1990 کو ہوا تھا۔

اتحاد کے بعد سے جرمنی کے کمیونسٹ حصے کی ترقی اور تعمیر کے لیے اب تک تقریباً دو ٹریلین ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اتنی بڑی رقم مشرقی حصے کے شہروں اور قصبات کی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ قدیم صنعت کو اپ گریڈ کرنے پر خرچ کی گئی ہے۔ سن 1990 کے بعد مشرقی علاقے سے لوگ بڑی تعداد میں مغربی حصے کی طرف رخ کرنے لگے۔ کہیں سن 2013 میں مغربی سے مشرقی حصے میں جانے والے شہریوں کی تعداد مقابلتاً زیادہ دیکھی گئی۔ ایک تازہ جائزے کے مطابق اب جرمنی کے مغربی علاقے کے لوگ بڑے فخر کے ساتھ مشرقی حصے کی طرف کام کاج کے سلسلے میں منتقل ہونے کے علاوہ وہاں چھٹیاں گزارنے بھی جاتے ہیں۔

جرمنی کے مشرقی علاقے میں شرحِ بیروزگاری ابھی بھی مغربی حصے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ دونوں حصوں کے درمیان بیروزگاری کا فرق بتدریج کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اتحاد کے وقت کے جرمن چانسلر ہیلموٹ کوہل نے مشرقی حصے کے جرمنوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بہت جلد ایک پروقار زندگی کی شروعات کرنے والے ہیں اور یہ دور کی بات نہیں۔ کوہل نے جو اُس وقت کہا تھا، وہ اب درست ثابت ہو چکا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں معاشی اور سماجی انقلاب رونما ہو چکا ہے۔ اِس کی ایک مثال جرمنی کے صدر اور چانسلر ہیں، ان دونوں کا تعلق کمیونسٹ مشرقی حصے سے ہے۔

آج کا جرمنی عالمی سطح پر ایک بڑی اقتصادی قوت کا حامل ہونے کے علاوہ گلوبل معاملات میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے ایک باوقار حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ جرمن چانسلر یورپ میں اصلاحات اور حکومتی اخراجات کی وکالت کرتی ہیں اور مبصرین کے مطابق اسی بنیاد پر وہ جرمن اقتصادیات کو کساد بازاری اور سست روی سے دور رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ گزشتہ برس جرمن صدر یوآخیم گاؤک نے کہا تھا کہ اب جرمنی کو تنازعات کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اس تناظر میں یونان کا مالی بحران ہو، یوکرائن کا مسلح تنازعہ، ایرانی جوہری ڈیل یا پھر مہاجرت کا سیلاب، ان سبھی میں جرمنی کا مثبت کردار واضح ہے اور اِسی باعث اب جرمنی سفارت کاری کا بھی ہیوی ویٹ تصور کیا جانے لگا ہے۔

Angela Merkel Tag der Deutschen Einheit Frankfurt Straßenszene Bürger Selfie

فرینکفرٹ میں اتحاد کی سالگرہ کے موقع پر جرمن چانسلر سلفی بناتے ہوئے

جرمن تاریخ دان ہائنرِش اگوسٹ وِنکلر کا کہنا ہے کہ اتحاد کے بعد جرمن عوام کو ایک مرتبہ پھر مشرقی حصے کے دلفریب اور دیدہ ریب نظارے دیکھنے کو ملے ہیں۔ اُن کا اشارہ میکلن بُرگ لیک ڈسٹرکٹ اور بالٹک سمندری پٹی کی جانب ہے۔ وِنکلر کے مطابق جس طریقے سے سیکسنی کے صنعتی علاقے پر چھائی آلودگی کو صاف کیا گیا ہے، ایسا ہی بہت سارے علاقوں میں کیا جا رہا ہے، جو یقینی طور پر ایک قابلِ تعریف عمل ہے۔ جرمن مؤرخ نے اتحاد کے بعد دونوں حصوں کے لوگوں میں پائی جانے والی اقتصادی خلیج میں کمی کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی مشرقی حصے میں بڑے جرمن کاروباری اداروں کی عدم موجودگی دیکھی جا سکتی ہے جو امکاناً اگلے برسوں میں کم ہو جائے گی۔

یہ امر اہم ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنی عمر کا ابتدائی عرصہ مشرقی حصے میں گزارا اور کمیونزم کے زوال کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور اتحاد کی پچیس ویں سالگرہ کے موقع پر ان کا کہنا ہے کہ جس انداز میں سوچا گیا تھا، اُس پر بہتر انداز میں عمل بھی کیا گیا۔ ژوآخیم گاؤک بھی مشرقی جرمن علاقے میں پلے بڑھے، وہ سابقہ پادری اور جمہوریت نواز رہ چکے ہیں۔ اب سن 2012 سے وہ جرمنی کے صدر ہیں۔