1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آتش فشاں کے متاثرین کے لئے ’لَو چیمبر‘

انڈونیشیا میں آتش فشاں کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی بنیادی ضروریات خوراک اور دواؤں تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہیں اب خلوت بھی درکار ہے، جہاں وہ اپنے ازدواجی فرائض انجام دے سکیں۔

default

انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے علاقے میں ماؤنٹ میراپی نامی پہاڑ پھٹنے سے ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباﹰ چار لاکھ افراد بے گھر ہیں، جو کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے۔ وہاں انہیں کم ہی سہی، بنیادی سہولتیں تو فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن انہیں خلوت میسر نہیں۔ اس مقصد کے لئے امدادی کیمپوں میں اب ’لَو چیمبر‘ بنانے پر بحث جاری ہے۔

ایسے ہی ایک کیمپ میں 18سالہ آری مارگریتا رہائش پذیر ہے، جس کی حال میں شادی ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہے، ’ہمیں بھی ایک لَو چیمبر میسر آ جائے تو اچھا رہے گا۔‘

تاہم قریبی شہر یوگیاکارتا کی مقامی حکومت ’لَوچیمبر‘ بنانے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کر پائی۔ لَو چیمبر بنائے جانے کا خیال سب سے پہلے انڈونیشیا میں 2006ء کے زلزلے کے بعد سامنے آیا تھا۔

متاثرین کو نفسیاتی مسائل میں مدد دینے والے مقامی رضاکاروں کے ایک گروپ کے ساتھ کام کرنے والے انصان نوروحمان کا کہنا ہے کہ خوراک اور دواؤں کے ساتھ ساتھ پروائیویسی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے ٹینٹ کے اندر ہی علیٰحدہ جگہ بنائی جا سکتی ہے، یا پھر لکڑی کے باکس فراہم کئے جا سکتے ہیں۔

Merapi Vulkan Ausbruch Indonesien

چار لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے

انہوں نے کہا کہ 2006ء کے زلزلے کے تجربات سے کہا جا سکتا ہے کہ ایسے ’لَو چیمبر‘ محفوظ ہیں اور ان سے کوئی سماجی مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔

نوروحمان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’لَوچیمبر‘ کے لئے ایک شیڈول ہوتا ہے کہ کون اس میں کب اور کتنی دیر کے لئے جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بعض پناہ گزین اس ضرورت کا احساس ہونے کے باوجود شرم کے مارے اس کا اظہار نہیں کرتے۔

دوسری جانب انڈونیشیا میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو اس تصور کا حامی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے خلوت خانے مناسب نہیں ہیں۔ ان سے مناسب پرائیویسی نہیں ملتی اور اگر بے دھیانی میں کوئی وہاں چلا گیا تو بہت شرمناک صورت حال پیدا ہوجائے گی۔

ماؤنٹ میراپی وسطی جاوا میں واقع ہے، جو تین ہفتے قبل اکتوبر میں پھٹا تھا اور تب سے بارہا پھٹ چکا ہے۔ حکام 20 کلومیٹر تک کے علاقے سے آبادیاں خالی کرا چکے ہیں۔ انہیں ابھی تک متاثرین میں دواؤں اور کپڑوں کی تقسیم کے مسئلے کا سامنا ہے جبکہ آتش فشاں کی راکھ کے باعث پھیلنے والی بیماریاں ایک اور مسئلہ ہے۔ دوسری جانب یوگیاکارتا کا ہوائی اڈہ ابھی تک بند ہے اور رواں ہفتے اس کے کھلنے کا کوئی امکان نہیں۔ سیاحتی مرکز کہلانے والے اس شہر کے لئے یہ صورت حال کسی دھچکے سے کم نہیں ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM