1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آتش فشاں کی راکھ پھر سے پروازیں متاثر کر سکتی ہے

سیفٹی سے متعلق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئس لینڈ میں آتش فشاں سے اٹھنے والی راکھ کےباعث مغربی یورپ کا وسیع تر علاقہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آئس لینڈ کی فضائی حدود بند کی جا چکی ہے۔

default

آئس لینڈ میں گزشتہ برس بھی آتش فشاں کی راکھ کے باعث یورپ کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔ اب ایسے ہی نئے بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فضائی سیفٹی کے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ Grimsvoetn کے پھٹنے سے اٹھنے والی راکھ برطانیہ کو متاثر کرنے سے قبل منگل تک اسکاٹ لینڈ کے شمالی علاقے تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے دو روز بعد اس راکھ سے فرانس اور اسپین بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس راکھ کے اثرات 2010ء کے بحران جیسے نہیں ہونے چاہیئں۔ اس وقت ایسے ہی واقعے کے باعث بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ کی گئی تھیں۔

راکھ کے بادل اتوار کو آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیافیک تک پہنچ گئے، جو آتش فشاں سے تقریباﹰ چار سو کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ راکھ کے یہ بادل بیس کلومیٹر طویل بتائے گئے ہیں۔

آتش فشاں ہفتہ کو پھٹا تھا۔ تاہم اس کے بعد چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں حکام اور ماہرین نے بتایا کہ اس کا اثر کم ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی آف آئس لینڈ کے جیوفزکسٹ میگنس تومی گڈمنڈسون نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا، ’صبح سے ہی اس کا اثر کسی حد تک کم ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں فضائی سفر کے متاثر ہونے یا نہ ہونے کا انحصار ہواؤں اور آتش فشاں سے اٹھنے والے دھوئیں کی طاقت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہواؤں میں اتنی طاقت نہیں، جو گزشتہ برس کے حادثے کے وقت دیکھی گئی تھی۔

Vulkan / Island / Grimsvötn

گزشتہ برس آتش فشاں کی راکھ کے باعث بڑے پیمانے پر پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں

اپریل 2010ء میں آئس لینڈ میں ہی آتش فشاں کے پھٹنے سے اٹھنے والی راکھ کے بادل یورپ کے وسیع علاقے تک پہنچے تھے۔ اس کے نتیجے میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑے پیمانے پر فضائی حدود بند کی گئی تھیں۔

آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات کے ایک ماہر اولی تھور آرناسن نے بھی یہی امید ظاہر کی ہے کہ اس مرتبہ راکھ کے بادلوں کے اثرات مقامی سطح تک ہی محدود رہیں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس