1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آتش فشاں کی راکھ، آسٹریلوی فضائی حدود متاثر

چلی کے آتش فشاں سے اٹھنے والی راکھ کے نتیجے میں آسٹریلیا میں پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔ پیر کو آسٹریلوی فضائی کمپنیوں نے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

default

تیز ہواؤں کے باعث آتش فشاں کی راکھ جنوبی بحر اوقیانوس اور جنوبی بحر ہند سے ہوتی ہوئی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی فضاؤں میں جا پہنچی ہے۔

آسٹریلیا کی قنطاس ایئرلائن نے کہا ہے کہ پیر کو اس کی جنوبی جزیرے تسمانیہ اور نیوزی لینڈ جانے اور وہاں سے اڑنے والی تمام پروازی‍ں منسوخ کر دی گئیں۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ بوينس ايریز اور لاس اینجلس کے لیے اس کی تین بین الاقوامی سروسز بھی منسوخ کی گئی ہیں۔ تاہم میلبورن جانے اور وہاں سے اڑنے والی پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔

اتوار اور پیر کو قنطاس کی مجموعی طور پر ایک سو دس پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کم از کم بیس ہزار مسافر متاثر ہوئے ہیں۔ قنطاس کی ذیلی برانچ جیٹ اسٹار ایئرلائن کے بھی بارہ ہزار مسافروں کو بھی پروازوں کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جیٹ اسٹار کی ترجمان اولیویا وِرتھ کا کہنا ہے: ’’یہ ہمارے سیفٹی معیارات کے عین مطابق ہے۔ ہمارے قنطاس گروپ کی پالیسی ہے کہ راکھ کے آثار دکھائی دینے پر پروازیں بند کر دی جائیں گی۔

آسٹریلیا میں ایوی ایشن حکام اور فضائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ورجن آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ میلبورن، تسمانیہ اور نیوزی لینڈ کے لیے پروازیں محفوظ ہیں۔ اس ایئرلائن کا کہنا ہے کہ اس کے طیارے راکھ کے نیچے یا اس کے گرد پرواز کریں گے۔

چلی میں آتش فشاں گزشتہ دنوں پھٹا تھا۔ خیال رہے کہ آئس لینڈ میں آتش فشاں سے اٹھنے والی راکھ کی وجہ سے یورپ میں بھی گزشتہ ماہ متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں تاہم اس راکھ کے اثرات 2010ء کے بحران جیسے نہیں ہوئے۔

اپریل 2010ء میں آئس لینڈ میں ہی آتش فشاں کے پھٹنے سے اٹھنے والی راکھ کے بادل یورپ کے وسیع علاقے تک پہنچے تھے۔ اس کے نتیجے میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑے پیمانے پر فضائی حدود بند کی گئی تھیں۔

عالمی ادارہ سیاحت UNWTO کے اندازوں کے مطابق آئس لینڈ میں گزشتہ برس آتش فشاں پھٹنے کے بعد متعدد ملکوں کی فضا میں پائی جانے والی راکھ اور فضائی آمدورفت میں تعطل کی وجہ سے یورپی سیاحتی صنعت کو قریب 1.7 بلین یورو کا نقصان ہوا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM