1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آبی وسائل کے استحصال کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم گیلانی

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعے کو ہر بین الاقوامی فورم پر اٹھایا گیا ہے اور وہ کسی کو بھی ملکی آبی وسائل کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

default

دریائے سندھ کا ایک منظر

ہفتے کے روز ملتان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی وزیراعظم کا لاہور میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہونے والے آبی معاہدے کی پاسداری کرے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’نئے ڈیموں کی تعمیر اور بجلی کی درآمد حکومتی ترجحات میں شامل ہیں۔‘‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پانی بھی ایک بہت بڑا تنازعہ ہے، جس پر پچھلے کئی ماہ سے لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔

Pakistan Indus

پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پانی بھی ایک بہت بڑا تنازعہ ہے

بھارتی مشہور تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفینس اسٹڈیز اینڈ انالسس میں پانی اورماحولیاتی امور کے انچارج ڈاکٹراتم کمار سنہا کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا میں پانی کا مسئلہ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر موجود ہے اور مستقبل میں یہ مسئلہ کافی پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے داخلی مسئلے کو تو بہتر نظم و نسق اورآب پاشی کے نئے طریقوں کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے لیکن پڑوسی ملکوں کے ساتھ پانی کا مسئلہ مستقبل میں پریشانی کا موجب ثابت ہو گا۔     

بھارت اور پاکستان گزشتہ تقریباً نصف صدی سے پانی کے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔  دونوں ملکوں نے پانی کے مسئلےکے حل  کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں تقریباً پچاس سال قبل سندھ طاس معاہدہ کیا تھا لیکن اب دونوں ملکوں کے بعض حلقے سندھ طاس آبی معاہدہ پر نظرثانی کی باتیں کررہے ہیں۔ ڈاکٹراتم کمار سنہا کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا سیاسی مسئلہ ہے اوراس بات کا امکان کم ہے کہ دونوں ممالک آسانی سے ایک دوسرے کے موقف سے اتفاق کر لیں۔

آبی امور کے ماہرڈاکٹراتم کمار سنہا کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس خطے کے تمام ملکوں کو مل کرایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور صرف بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اورنیپال کے درمیان کسی معاہدے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس میں چین کو بھی شامل کرنا ہوگا کیونکہ تبت پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ملکوں کوپانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اورمشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سنہا کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیائی ملکوں کواپنے آبی تنازعات کو حل کرنے کے لیے افریقہ میں دریائے نیل کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے، جہاں تاریخی اختلافات کے با وجود گیارہ ممالک اس کے پانی کو کسی جھگڑے کے بغیر استعمال کررہے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM