1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آبیجان میں باگبو کے حامی دستوں کی پیش قدمی

اقوام متحدہ کے امن دستے کے سربراہ الاں لی روئے نے تصدیق کی ہے کہ متنازعہ صدر لاراں باگبو کی حامی فورسز نے دارالحکومت آبیجان میں پیش رفت کی ہے جبکہ کوکوڈی اور پلیٹیو نامی علاقوں میں مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

default

وتارا کے حامی فوجی آبیجان میں

جمعہ کے دن آئیوری کوسٹ کی تازہ ترین صورتحال پر سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے فوجی امن مشن کے سربراہ الاں لی روئے نے کہا کہ اطراف سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لی روئے نے مزید کہا کہ باگبو کی فورسز بھاری اسلحے کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ امن مذاکرات کے نام پر وہ طاقت جمع کرنے کی کوشش میں ہیں،’ ہم نے دیکھا ہے کہ باگبو کی فورسز کوکوڈی میں بھاری اسلحہ منتقل کر رہی تھیں‘۔

لی روئے کے بقول اقوام متحدہ اور فرانسیسی فوج کی طرف سے تباہ کیے جانے کے باوجود باگبو کی فورسز کے پاس بھاری اسلحہ اب بھی موجود ہے۔ دوسری طرف فرانس میں باگبو کے مشیر نے ایسی تمام تر خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوج کے پاس ایسا کوئی اسلحہ نہیں ہے، ’ایسے بیانات درست نہیں ہیں کہ باگبو کے حامیوں کے پاس اب بھی بھاری اسلحہ ہے، کیونکہ گزشتہ ہفتے کے دوران فرانسیسی جنگی طیاروں نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے‘۔

No Flash Elfenbeinküste Unruhen Abidjan Rebellen

وتارا کی حامی فوج پیش قدمی کرتے ہوئے

لی روئے کے مطابق باگبو کی فورسز آہستہ آہستہ آبیجان میں واقع اس علاقے کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں ، جہاں وتارا نے اٹھائیس نومبر کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد سے پناہ لے رکھی ہے۔

دوسری طرف جمعہ کو جاری کی گئی انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الاسان وتارا کی فورسز کی طرف سے کی گئی کارروائی میں سینکڑوں شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وتارا کے حامیوں نے بیس ایسی خواتین کی آبرو ریزی بھی کی، جو مبینہ طور پر باگبو کی حامی تھیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ وتارا کی فوج نے ملک کےمغربی علاقوں میں واقع دس دیہات کو صرف اس لیے نذر آتش کر دیا، کیونکہ وہاں باگبو کے حمایتی تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس