1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آئی پی ایل 2011ء، افتتاحی میچ میں چنئی کی جیت

انڈین پریمیئر لیگ کے سال 2011ء سیزن کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپیئن چنئی سپر کنگز نے کولکتہ نائٹ رائڈرز کو ایک ڈرامائی میچ میں دو رنز سے شکست دے دی ہے۔

default

بھارتی قومی کرکٹ ٹیم کو عالمی کپ میں چیمپیئن کا اعزاز دلوانے والے مہندر سنگھ دھونی نے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بھی اپنی ٹیم چنئی سپر کنگز کو پہلے میچ میں بھی کامیابی دلوا دی۔ بالی ووڈ کے سٹار اداکار شاہ رخ خان کی کولکتہ نائٹ رائڈرز نے اگرچہ شاندار مقابلہ کیا تاہم اختتام پر ہار ہی اس کے نصیب میں آئی۔

چنئی سپر کنگز نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور مقررہ بیس اوورز میں چار کھلاڑیوں کے نقصان پر 153 رنز بنائے۔ چنئی کی طرف سے اوپنر سری کانت اینی رودھا نے 64 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جس پر انہیں کھیل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ان کے بعد کامیاب ترین بلے بازوں میں سریش رائنا نے 33 رنز بنائے جبکہ کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے 29 رنز کی اننگز کھیلی۔

Flash Cricket Spieler Jacques Kallis

کولکتہ نائٹ رائڈرز کی نمائندگی کرنے والے ژاک کیلس نے عمدہ اننگز کھیلی

کولکتہ نائٹ رائڈرز کی طرف سے کامیاب ترین بولر ژاک کیلس رہے، انہوں نے تین اوورز میں 34 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ یوسف پٹھان اور اقبال عبداللہ کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔

154 رنز کے تعاقب میں کولکتہ کی ٹیم نے اچھا آغاز کیا۔ اوپنر ژاک کیلس نے 54 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ کولکتہ کو دھچکا اس وقت لگا جب جارحانہ انداز میں کھیلنے والے ون ڈاؤن بلے باز یوسف خان پٹھان رن آؤٹ ہو گئے۔ تاہم پھر بھی شاہ رخ خان کی ٹیم نے ہمت نہ ہاری اور آہستہ آہستہ رنز بناتی رہی۔

منوج تیواری اور انگلش کھلاڑی اوین مورگن کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اس افتتاحی میچ میں کولکتہ نائٹ رائڈرز کامیاب ہو ہی جائے گی لیکن وہ 151 رنز ہی بنا سکی اور دو رنز سے ہار گئی۔

چنئی کی طرف سے ٹم ساؤتھی، ایشون، راندیو، جکارتی اور رائنا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ اس میچ میں کامیابی کے ساتھ چنئی نے دو پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں۔ آج آئی پی ایل کے سلسلے میں دو میچ کھیلے جائیں گے۔ پہلا میچ دکن چارجرز اور راجھستان رائلز کے مابین ہو گا جبکہ دوسرے میں کوچی اوربنگلور کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات