1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آئی پی ایل کا مہنگا ترین کھلاڑی کون؟

دُنیا کے سب سے مہنگے کرکٹ ٹورنامنٹ انڈین پریمیئر لیگ کے چوتھے سیزن کے لئے کھلاڑیوں کی بولی جاری ہے، جس کا آج دوسرا اور آخری دِن ہے۔ بھارتی ٹیسٹ بیٹسمین گوتم گمبھیر 24 لاکھ ڈالر میں بک گئے ہیں۔

default

بھارتی ٹیسٹ بیٹسمین گوتم گمبھیر

اس ٹورنامنٹ کے نئے سیزن کے لئے دنیا بھر سے ساڑھے تین سو ٹاپ کرکٹرز فروخت کے لئے دستیاب ہیں، جو اس چیمپیئن شپ میں شامل ٹیموں کا حصہ بنیں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو خریدنے والے مجموعی طور پر ساڑھے سات کروڑ ڈالر خرچ کریں گے۔

کھلاڑیوں کے لئے بولی ہفتہ کو بنگلور کے ایک ہوٹل میں شروع ہوئی، جس میں بکنے والے سب سے پہلے کھلاڑی گمبھیر ہی ہیں۔ انہیں کولکتہ رائڈرز نے خریدا ہے اور وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے مہنگے ترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اسی ٹیم نے یوسف پٹھان کے لیے 21 لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں جبکہ ممبئی انڈینز نے روہیت شرما کو 20 لاکھ ڈالر میں خریدا ہے۔

ان کے مقابلے میں دکن چارجرز نے انگلش بیٹسمین کیون پیٹرسن کو بہت سستے میں خرید لیا ہے۔ ان کے لئے ساڑھے چھ لاکھ ڈالر ادا کیے گئے ہیں۔

آئی پی ایل کے نئے سیزن میں رکی پونٹنگ، مائیکل کلارک اور مشل جانسن شامل نہیں ہوں گے جبکہ ہفتہ کو ہونے والی بولی میں کوئی پاکستانی کھلاڑی بھی شامل نہیں تھا۔

آئی پی ایل کو گزشتہ سیزنز میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا بھی رہا ہے، جس کی وجہ سے منتظمین اس کا امیج بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ خیال رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل کے بانی للیت مودی کو ایسے ہی الزامات پر ہٹا دیا تھا۔ تاہم وہ الزامات کی نوعیت سے انکار کرتے ہیں۔

Flash-Galerie Shah Rukh Khan

کولکتہ رائڈرز کی ملکیت بالی وُڈ اسٹار شاہ رُخ خان کے پاس ہے

بی سی سی آئی نے دو ٹیموں، راجستھان رائل اور کنگز الیون پنجاب کو بھی خارج کر دیا تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ ان ٹیموں کے منتظمین کی جانب سے مالکانہ حقوق میں تبدیلی سے بورڈ کو مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم ان ٹیموں نے اس حوالے سے عدالت سے رجوع کیا، جس پر انہیں دوبارہ آئی پی ایل میں شامل کیا جا چکا ہے۔ اس لیگ میں اب دو نئی ٹیمیں، کوچی اور پونے واریئرز بھی شامل ہو چکی ہیں۔

آئی پی ایل کے نئے سیزن کا آغاز کرکٹ ورلڈ کپ کے محض ایک ہفتے بعد آٹھ اپریل کو ہو جائے گا۔ اس مرتبہ عالمی کپ کی میزبانی بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کر رہے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس