1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آئی پی ایل : پاکستانی کرکٹرز کی شمولیت میں رکاوٹیں

پاکستانی وزیر برائے کھیل آفتاب شاہ جیلانی نے کہا ہے کہ ملکی کھلاڑیوں کی انڈین پریمیئرلیگ میں شمولیت کی راہ میں فی الحال سلامتی کے خدشات رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

default

پاکستانی آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی

کرکٹ بورڈ کی جانب سے وزارت کھیل سے اجازت طلب کی گئی ہے تاکہ کھلاڑی آئندہ سال مارچ۔ اپریل کے دوران بھارت میں منعقدہ IPL کے تیسرے سالانہ مقابلوں میں حصہ لے سکیں۔

وزیر کھیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرکٹ بورڈ کی درخواست وزارت خارجہ بھیج دی ہے جہاں اس بارے میں حتمی فیصلہ ہوگا۔ آئی پی ایل انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کے لئے خصوصی طورپر سات دسمبر تک حتمی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے تاکہ کھلاڑیوں کی شرکت یقینی ہوسکے۔

Indian Premier League Finale

رواں برس آئی پی ایل سیریز جنوبی افریقہ میں منعقد کی گئی

آفتاب جیلانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی کھلاڑیوں کو بھارت جانے کی اجازت سیکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوے نہیں دی گئی تھی اور اب بھی اس موقف میں فی الحال تبدیلی نہیں آئی۔ وزیر کھیل کے بقول پاکستان اپنے کرکٹرز کی بھارت میں مکمل سلامتی سے متعلق یقین دہانی چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھارتی شہر ممبئی میں دہشت پسندانہ حملوں اور بھارت میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کےباعث آئی پی ایل کے مقابلوں کو جنوبی افریقہ منتقل کیا گیا تھا۔ دوسرے سال کے مقابلوں کو ابتدائی سال کی طرح پزیرائی نہ مل سکی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کی معانت سے شروع کئے گئے ان مقابلوں میں مختلف بھارتی شہروں کے نام پر ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کے مالکان بالی وڈ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے فلمی ستارے اور دوسرے نجی اداروں سے وابستہ کاروباری شخصیات ہیں۔ کرکٹ کے کھیل میں بیس اورز کے مقابلے، جنہیں عام زبان میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچز کہا جاتا ہے، ان کی مقبولیت میں انڈین پریمئر لیگ نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔

یونس خان، شعیب اختر، شاہد آفریدی، محمد آصف اور عمر گُل سمیت پاکستان کے گیارہ کھلاڑیوں نے سال دوہزار آٹھ میں آئی پی ایل کے افتتاحی مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ حالیہ برس بھی کرکٹ بورڈ نے عمرگل، عبدلرزاق اور سہیل تنویر کوآئی پی ایل کھیلنے کی اجازت دے دی تھی تاہم وزارت کھیل نے اس اجازت کو قواعد کی خلاف ورزی قراردیا تھا۔

رپورٹ: شادی خان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM