1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آئی پی ایل تنازعہ: پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ

آئی پی ایل تنازعہ کی گونج اب پارلیمانی ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔حزب اختلاف کی جماعتیں آئی پی ایل میں مبینہ مالی بےضابطگیوں کے خلاف چھان بین کے لئے متحد بھی ہو گئی ہیں۔

default

بی جے پی کی رہنما سشما سوراج

بھارت میں انڈین پریمیئر لیگ IPL میں روزانہ ہی نت نئے انکشافات کے بعد، اس مہنگے ترین کرکٹ ٹورنامنٹ کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔

جمعہ کو پارلیمانی ایوان زیریں لوک سبھا میں اپوزیشن کی مرکزی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی BJP نے IPL میں مبینہ مالی دھاندلیوں کے بارے میں باقاعدہ تحقیقات کے لئے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ بی جے پی کی رہنما اور پارلیمان میں قائد حزب اختلاف سشما سوراج نے کہا کہ یہ معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے اوراس میں UPA حکومت کے دو ورزاء بھی مبینہ طور پر ملوث پائے جا رہے ہیں، اس لئے اس تنازعہ کی اصل حقیقت جاننے کے لئے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

پی جے پی کے اس مؤقف پر دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی متحد ہو گئی ہیں۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے رہنما شردھ یادو اور کمیونسٹ پارٹی کے رہنما گرداس داس گپتا نے بھی حقائق سامنے لائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس پس منظر میں جمعہ کو لوک سبھا کی کارروائی میں آئی پی ایل کا معاملہ مرکزی موضوع بنا رہا۔ اس دوران وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے معاملے کی شدت کو دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں جلد ہی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے بات کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ کے حل کے لئے جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔

سشما سوراج نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس معاملے میں ملوث نیشنلسٹ کانگریس پارٹی این سی پی کے دو ورزاء کو بچانے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔

این سی پی کےسربراہ شردھ پوار نہ صرف موجودہ حکومت میں وفاقی وزیر زراعت ہیں بلکہ وہ مستقبل میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی سربراہی کے لئے ICC کے صدر بھی منتخب کئے جا چکے ہیں۔ اسی اسکینڈل کی زد میں دوسرا بڑا سیاسی نام ہوابازی کے وزیر پرفیل پاٹیل کا ہے۔ ان کی بیٹی آئی پی ایل سے منسلک ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں نے خود پر عائد کئے جانے والے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

Der Vorsitzende der indischen Cricketliga (IPL) Lalit Modi

آئی پی ایل کے کمشنر للت مودی

انڈین پریمیئر لیگ میں اب تک مالی بے ضابطگیوں، طاقت کے ناجائز استعمال، ٹیموں کو حقوق دینے کے معاملے، فنڈنگ کے ذرائع، منی لانڈرنگ اور ایسے ہی کئی دیگر حوالوں سے مختلف اسکینڈل سامنے آ چکے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری اس کشمکش کے دوران روزانہ ہی کوئی نہ کوئی نیا انکشاف ہو رہا ہے۔ اسی تنازعے کے سبب بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور ششی تھرور کو بھی اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔

بھارت میں محکمہ انکم ٹیکس حکام انڈین پریمیئر لیگ کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ جمعہ کو ہی اس لیگ میں شامل ٹیمیں اور دیگر حکام متوقع طور پر اپنے اپنے مالیاتی گوشوارے متعلقہ حکام کو جمع کرا دیں گے۔

دریں اثناء تنازعات کی شکار اس کرکٹ لیگ کے کمشنر للت مودی بھی اپنی بقاء کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی کاوش ہے کہ آئی پی ایل کی گورننگ کونسل کی میٹنگ آئندہ پیر کو نہ ہو۔ اس مقصد کے لئے وہ عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ للت مودی کا مؤقف ہے کہ اس لیگ کا کمشنر ہونے کے ناطے صرف وہی ایسا کوئی اجلاس بلا سکتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ اجلاس یکم مئی کو منعقد ہو، تاکہ وہ اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لئے کافی تیاری کر سکیں۔ دوسری طرف آئی پی ایل کی گورننگ کونسل  کے ممبر منصورعلی خان پٹودی نے کہا ہے کہ یہ میٹنگ اپنے مقررہ دن اور وقت پر ہی ہو گی اور اگر للت مودی اس میٹنگ میں شامل نہ ہوئے تو یہ بات ان کے لئے نقصان دہ ہو گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM