1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

آئی ٹی کی عالمی نمائش CeBit کا افتتاح

آج سے جرمن شہر ہنوور میں کمپیوٹر کے شعبے کا سالانہ عالمی تجارتی میلہ CeBit باقاعدہ طور پر شروع ہو رہا ہے، جس کا موٹو ہے، Connected Worlds۔

default

جرمن چانسلر ہسپانوی وزیراعظم کے ہمراہ

اس مرتبہ اس میلے میں 68 ممالک کے چار ہزار سے زائد نمائش کننددگان حصہ لے رہے ہیں۔ اس میلے میں خاص توجہ لاطینی امریکی ممالک پر مرکوز کی گئی ہے۔

Deutschland Messe CeBIT 2010 in Hannover Cockpit-Computer

اس نمائش میں آئی ٹی سے متعلق جدید ترین مصنوعات پیش کی جارہی ہیں

یورپی یونین نے ’سی بٹ‘ میں لاطینی امریکی ممالک سے آئے ہوئے تاجروں اور ماہرین کے لئے Al-Invest نامی ایک پروگرام متعارف کرایا ہے۔اس کا تعلق دونوں براعظموں کے درمیان تجارتی مراسم کو فروغ دینے سے ہے۔ لاطینی امریکی ملکوں کو خاص اہمیت سپین کی وجہ سے بھی دی جا رہی ہے، جو اس مرتبہ ’سی بٹ‘ کا ساتھی ملک ہے۔ بیرون ملک ’سی بٹ‘ کی ترجمان مونیکا برانڈ کے مطابق لاطینی امریکی ممالک کو نمایاں اہمیت دینے کی ایک وجہ میلےکی توسیع کا منصوبہ بھی ہے۔

’’ہم’ سی بٹ‘ کے علاوہ استنبول، شنگھائی اور سڈنی میں بھی مختلف میلوں کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم مئی 2011ء میں برازیل میں سی بٹ کی طرز کا ہی ایک میلہ منعقد کروانے کا منصوبہ بنا رہےہیں۔ تاہم اس وقت ہماری توجہ روس، برازیل، چین اور بھارت پر مرکوز ہے۔ ہم ان ممالک میں سی بٹ کروانے کا سوچ رہے ہیں۔‘‘

Flash-Galerie Deutschland Messe CeBIT 2010 in Hannover virtuelles Klassenzimmer

پچھلے برس کی نسبت اس مرتبہ بڑی تعداد میں نمائش کنندگان شریک ہوئے ہیں

آخر Al Invest پروگرام ہے کیا ؟

اس میں لاطینی امریکہ میں کمپیوٹر کے شعبے میں کام کرنے والی چھوٹی اوردرمیانی سطح کی کمپنیوں کو ایسے مواقعے دئے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ بین الاقوامی منڈی میں اپنے ق‍دم جما سکیں۔ 1994ء سے شروع کئے گئے اس پروگرام پر 2009 ء میں اس طرح سے عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا، جیسا کے انتظامیہ چاہتی تھی۔ Al Invest سے منسلک Jesus Corralکہتے ہیں کہ اس کے باوجود بھی گزشتہ برس کے’ سی بٹ‘ میں جنوبی امریکہ سے بیس سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی تھی۔

’’اس سال Al invest کے سلسلے میں 65 ملکوں کے ایک سو دس سے زائد نمائندے شریک ہیں۔ اس میں برازیل، چلی، میکسیکو، نکاراگوا، پیراگوائے اور یوراگوائے سے کمپيوٹر اور ٹيلی مواصلات کے شعبے کی چھوٹی اور درمیانی سطح کی تمام کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔‘‘

گزشتہ برس کے سی بٹ پر اقتصادی بحران کے اثرات دکھائی دئیے تھے۔ 2008ء کے مقابلے میں گزشتہ برس میلہ دیکھنے آنے والوں کی تعداد پچیس فی صد کم ہوئی جبکہ بیس فی صد کم نمائش کنندگان اس میں شریک ہوئے۔ صرف کمپیوٹر ماہرین کی شرکت بڑھی تھی، جس کا تاجروں کو زبردست فائدہ ہوا تھا۔ چھ مارچ تک جاری رہنے والے اس میلے میں کمپیوٹر ہاڈر ویئر اور سوفٹ ویئر سمیت اس شعبے میں ہونے والی نئی ایجادات متعارف کرائی جارہی ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے گزشتہ روز سی بٹ کا افتتاح کیا جبکہ عام پبلک کے لئے اس کے دروازے آج سے باقاعدہ طور پر کھول دئے جائیں گے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : عاطف توقیر