1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی فون کا لاک کھولنے میں ایف بی آئی کامیاب

امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی نے سان برناڈینو کے حملہ آوروں میں سے ایک کا فون ایپل کمپنی کے مدد کے بغیر کھولنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کے بعد ان کی جانب سے دائر مقدمہ ختم کردیا گیا ہے۔

پیر کو امریکی حکام کی جانب سے ہونے والے اس انکشاف سے ایپل اور حکام کے مابین چلے آرہی گرما گرم قانونی بحث ختم ہو گئی ہے، جو سلیکون ویلی اور امریکی حکام کے تعلقات میں تلخی کا سبب بنی ہوئی تھی۔

سان برناڈینو میں رضوان فاروق اور اُس کی بیوی تاشفین ملک نے حملہ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی میں وہ دونوں بھی گولی کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں عدالت نے حکام کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ ایپل کمپنی کی مدد کے بغیر رضوان فاروق کے موبائیل کے مواد حاصل کریں۔ اس پر ایپل کی طرف سے شدید مذاحمت سامنے آئی تھی۔

ایپل، گوگل اور فیس بک جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ایک وسیع اتحاد نے اس سلسلے میں امریکی حکومت کی سخت مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ آئی فون لاک کھولنے کا عمل ڈیجیٹل سکیورٹی اور پرائیویسی کے قوانین پر دوررس اور گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

USA Anschlag in San Bernardino - Täterehepaar Flughafenfoto

رضوان فاروق اور اُس کی بیوی تاشفین ملک

امریکی پراسیکیوٹرز نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ایک بیرونی فریق نے ایپل کی مدد کے بغیر ہی موبائل فون کا لاک توڑنے کا ایک طریقہ کار وضع کر لیا ہے۔ اب حکام اس نئے طریقہ کار کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں اور جب تک آئی فون کے مواد تک رسائی کے اس طریقے کی مکمل چھان بین نہیں ہو جاتی تب تک امریکی محکمہ انصاف کے کہنے پر عدالتی کارروائی ملتوی رہے گی۔

ایپل کمپنی کو اب یہ تشویش لاحق ہو گئی ہے کہ آخر اُس کے آئی فون ٹیکنالوجی میں وہ کون سی کمزوری یا نقص پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کسی بیرونی فریق کی طرف سے ان لاک کرنے یا اس کا لاک توڑنے کا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔ ایپل نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ایپل کی اس کمزوری سے اُسے بھی آگاہ کرے۔

Apple iPhone 1

شہری حقوق کی وکالت کرنے والے ایف بی آئی کی طرف سے آئی فون لاک توڑنے کے عمل کی مخالفت کر رہے ہیں

ریاست کیلی فورنیا کی ایک پراسیکیوٹر نے پیر کو ہی یہ کہہ دیا تھا کہ رضوان فاروق کے آئی فون لاک کو توڑنے کے لیے حکام نے کسی تیسرے فریق سے مدد لی ہے تاہم وہ تیسرا فریق کون ہے اس بارے میں انہوں نے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

دریں اثناء ٹیکنالوجی کی متعدد کمپنیوں، سکیورٹی ماہرین اور شہری حقوق کی وکالت کرنے والوں نے کہا ہے کہ حکام کے اس اقدام سے اُن کی مصنوعات سازی کے عمل میں مداخلت کے لیے چور دروازے کُھل جائیں گے۔ ان کمپنیوں نے اس سلسلے میں حکومت کے خلاف جنگ کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

DW.COM