1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آئی سی سی کے فیصلے پر تنقید

بین الاقوامی کرکٹ کونسل ICC نے اپنے اُس متنازعہ فیصلے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے تحت 2015ء اور 2019ء کے عالمی کپ مقابلوں میں صرف دس ٹیمیں ہی شرکت کریں گی۔ ICC کے اس منصوبے کو پہلے سے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

default

آئر لینڈ نے حالیہ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کو شکست دی تھی

کرکٹ کی بین الاقوامی منتظم کونسل نے اپنے اِس متنازعہ فیصلے کا اعلان ممبئی میں منعقد کی گئی اپنی ایک ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کے بعد کیا۔ حالیہ ورلڈ کپ میں چودہ ٹیموں نے شرکت کی تھی، جس میں ہفتے کو بھارت نے سری لنکا کی شکست دے کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی طرف سے جاری کی گئی ایک میڈیا ریلز میں کہا گیا،’ایگزیکٹو بورڈ اکتوبر 2010ء میں کیے گئے اپنے اس فیصلے کی تصدیق کرتا ہے کہ سن دو ہزار پندرہ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مشترکہ طور پر منعقد کیے جا رہے آئی سی سی ورلڈ کپ اورسن دو ہزار انیس میں انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں دس ہی ٹیمیں حصہ لیں گی‘۔

Cricketspieler Graeme Swann

انگلش کھلاڑی گریم سوان

کرکٹ کی دنیا سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات کی طرف سے اس فیصلے پر اعتزاضات اٹھائے جانے کے باوجود آئی سی سی نے اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے کہ کم ازکم آئندہ دو عالمی کپ مقابلوں میں آئرلینڈ، کینیڈا، کینیا اور ہالینڈ کی ٹیمیں شریک نہیں ہوں گی۔ آئی سی سی کے اس فیصلے کےبعد اب آئندہ دو ورلڈ کپ مقابلوں میں صرف اس کے مکمل رکن ممالک ہی حصہ لیں گے۔ آئی سی سی کے مکمل رکن ممالک میں بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ اور زمبابوے شامل ہیں۔

آئرش کرکٹ ٹیم کے کپتان نے آئی سی سی کے اس فیصلے کو ’ایک مذاق‘ قرار دیا ہے جبکہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سٹار کھلاڑی مائیکل کلارک نے کہا کہ جب ناتجربہ کار ٹیموں کو کرکٹ کھیلنے کو موقع ملتا ہے تو وہ بہت زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سے قبل انگلش بولر گریم سوان نے بھی کہا تھا،’آپ یہ کیوں چاہتے ہیں کہ عالمی کپ مقابلوں سے دنیا کو باہر کر دیا جائے‘۔

دوسری طرف بالخصوص آئر لینڈ نے آئی سی سی کے اس فیصلے کے خلاف سوشل ویب سائٹ فیس بک پر ایک مہم شروع کر دی ہے۔ آئی سی سی کی طرف سے اس فیصلے کی تصدیق ایسے وقت میں کی گئی ہے، جب حالیہ عالمی کپ مقابلوں کو اپنی طوالت کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں منقعد ہونے والے 2011ء کے ورلڈ کپ مقابلے انیس فروری سے لے کر دو اپریل تک جاری رہے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات