1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی سیف میں شامل سولہ ملکوں کا مشاورتی اجلاس

جرمن دارالحکومت برلن میں آج ان 16 ملکوں کے وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل سٹاف کا ایک مشاورتی اجلاس ہو رہا ہے، جنہوں نے بین الاقوامی حفا‌ظتی فوج ISAF میں شمولیت کے لئے اپنے مسلح دستے افغانستان بھیج رکھے ہیں۔

default

افغانستان متعینہ آئی سیف دستوں میں شامل جرمن فوجی

اس کانفرنس کے میزبان اور وفاقی جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈور سوگٹن برگ کے بقول اس مشاورت کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ ان ملکوں کی افغانستان میں آئندہ فوجی حکمت عملی کیا ہو گی۔

سو گٹن برگ نے آج برلن میں اس اجلاس کے آغاز سے قبل کہا کہ مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ اشارہ دینا ہے کہ یہ سولہ ریاستیں افغانستان میں اپنے مشترکہ اور طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے آخر تک بھرپور کوششیں کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔

سلامتی امور میں مدد کرنے والی اس بین الاقوامی حفاظتی فوج ISAF کی شمالی افغانستان میں کمان جرمنی کے پاس ہے۔ وفاقی جرمن پارلیمان نے اپنے ایک اکثریتی فیصلے کے تحت اسی سال فروری میں اس فوج میں شامل جرمن دستوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد مزید بڑھا کر 5350 کر دی تھی۔

برلن میں آج بعد دوپہر شروع ہونے والے اس بین الااقوامی عسکری مشاورتی اجلاس میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو، یورپی یونین اور خود افغانستان کے نمائندے بھی حصہ لے رہے ہیں۔

Infografik Einsatzgebiete der Bundeswehr in Afghanistan

شمالی افغانستان میں آئی سیف دستوں کی کمان جرمنی کے پاس ہے

دریں اثنا وفاقی جرمن پارلیمان کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کے ماحول پسندوں کی گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے سربراہ ٹام کوئنگز نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں آج منگل کو مطالبہ کیا کہ شمالی افغانستان میں سول نوعیت کے امدادی منصوبوں کے لئے زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جانا چاہییں۔

ماضی میں افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کے فرائض انجام دیتے رہنے والے Tom Koenigs نے کہا کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانستان میں سلامتی کے حصول کو یقینی بنانا مستقبل میں اور بھی مشکل ہو جائے گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی مد نظر رکھی جانا چاہیے کہ شمالی افغانستان میں شدت پسندی سے متاثرہ صرف آٹھ اضلاع کے مقابلے میں 123 اضلاع ایسے ہیں جہاں شدت پسندی امن کے لئے کوئی بڑا خطرہ نہیں رہی، اور جہاں زیادہ سے زیادہ سول امداد پہنچ سکتی ہے جو لازمی طور پر پہنچنی چاہیے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM