1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی اے ای اے کی جانب سے ایران کی مذمت

جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے بورڈ نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے پیش کی جانے والی قراردار سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان بشمول جرمنی کی جانب سے تیار کی گئی تھی۔

default

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی سمیت 12غیر مستقل ارکان کی جانب سے پیش کی جانے والے قرارداد کے مسودے میں نا تو ایران کے معاملےکو اقوام متحدہ میں اٹھانے کی بات کی گئی ہے اور نہ ہی ایران کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کے اگلے ہفتے ہونے والے فورم میں شرکت نہیں کرے گا اور یہ مذمتی قرارداد اس کے ارادے کمزور نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

 اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو مذاکرات کے سلسلے کو مزید بڑھانا ہو گا۔ ساتھ ہی ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ تہران حکام جوہری پرگرام کے حوالے سے فوری طور پر اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد پر عمل پیرا ہوں۔ آئی اے ای اے کے بورڈ میں 35 ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ ایرانی جوہری پرگرام کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں 32 ممالک نے ووٹ دیے۔کیوبا اور ایکواڈور نے اس کی مخالفت کی جبکہ انڈونیشیا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ چین اور روس کے مؤقف کو نظر میں رکھتے ہوئے اس قرارداد میں ایران کے لیےکوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی جبکہ دوسری جانب جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ یوکیا امانو سے کہا گیا ہے کہ وہ تہران حکومت کی جانب سے قرارداد پر عمل درآمد کے حوالے سے مارچ میں بورڈ کے سامنے رپورٹ  پیش کریں۔

Iran IAEA Ultimatum Atomwaffen Aufklärung

مسودے میں ایران کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں رکھی گئی

گزشہ ہفتے ہی آئی اے ای اے کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں لگا ہوا ہے۔ تہران حکام نے فوری طور پر اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ ایرانی نمائندے علی اصغر سلطانی کے بقول یہ رپورٹ غیر متوازن، غیر قانونی اور سیاسی وجوہات پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا اس سے عالمی ادارے کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ سلطانی کے بقول درحقیقت آئی اے ای اے میں ایران کی موجودگی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس عالمی ادارے کی سمت کو درست کیا جائے اور اس بات کا تدارک کیا جائے کہ امریکہ اس ادارے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ جرمنی ، فرانس اور برطانیہ سمیت متعدد مغربی ممالک نے اس رپورٹ پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس