1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایم ایف کے سربراہ پر عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ

جنسی زیادتی کی کوشش کے الزام میں گرفتار آئی ایم ایف کے سربراہ ڈومینیک اسٹراؤس کاہن پر عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ جیل میں خود کشی کر سکتے ہیں۔

default

اسٹراؤس کاہن

آئی ایم ایف کے ہی اہلکار اور کچھ یورپی حکام ان پر استعفی دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ بورڈ کے دو اہلکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کہا، ’آئی ایم ایف نے اسٹراؤس کاہن سے رابطہ نہیں کیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان سے رابطہ کرنا ضروری ہوگا۔‘

روئٹرز کے مطابق دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹراؤس خود مستعفی ہو جائیں تو بہتر رہے گا۔ آئی ایم ایف کا بورڈ 24 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے۔
اس تنازعے کے بعد آئی ایم ایف کے نئے سربراہ کی تقرری کے حوالے سے کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ نئے سربراہ کے نام کے حوالے سے چین ، برازیل اور جنوبی افریقہ یورپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے سربراہ کے عہدے پر یورپ کی گرفت کمزور ہونی چاہیے۔

دوسری جانب امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ہوٹل کی ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کے الزام میں گرفتار اسٹراؤس کاہن خودکشی کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں جیل میں خاص نگرانی کے سیل میں رکھا گیا ہے۔
اسٹراؤس کاہن کو نیویارک کی ایک جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں ہر پل ان پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس سیل میں ایک خصوصی آلہ لگایا گیا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا رہے گا کہ ان کی سانس چل رہی ہے۔ ان کوششوں کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے موجود 62 سالہ اسٹراؤس محفوظ رہیں۔

IWF Direktor Dominique Strauss-Kahn

امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ کاہن جیل میں خودکشی کر سکتے ہیں


اسی تناظر میں انہیں باقی قیدیوں سے الگ ایک ایسے سیل میں رکھا گیا ہے، جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے، جن کی جانب سے خودکشی کی کوشش کا خدشہ ہو۔ پیر کو امریکی عدالت نے آئی ایم ایف کے سربراہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اسٹراؤس کاہن اپنے خلاف تمام الزامات سے انکار کر چکے ہیں۔
اُدھر فرانس کی سوشلسٹ پارٹی کے کئی رہنماؤں نے اسٹراؤس کاہن کو ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کرنے کی مخالفت کی ہے۔ ان کی پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد انہیں میڈیا کے سامنے پریڈ کی شکل میں لانا ٹھیک نہیں تھا۔ فرانس پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ الزام ثابت نہیں ہونے تک کاہن بے گناہ ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس