1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایم ایف کے سربراہ، جنسی حملہ کرنے پر گرفتار

نیویارک پولیس نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم یف) کے سربراہ ڈومینیک سٹراؤس کاہن کو ہوٹل کی ایک ملازمہ پر جنسی حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

default

نیو یارک ٹائمز کے مطابق فرانس سے تعلق رکھنے والے ڈومینیک سٹراؤس کاہن کو جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ پر کھڑے ہوائی جہاز سے اتار کر اُس وقت گرفتار کیا گیا، جب ان کا طیارہ فرانس روانگی کے لیے بالکل تیار تھا۔

پولیس کے مطابق ٹائمز اسکوائر سوفیٹل ہوٹل کی ایک 32 سالہ ملازمہ نے بتایا کہ ہفتے کی دوپہر جب وہ 62 سالہ ڈومینیک سٹراؤس کاہن کے کمرے کی صفائی کے لیے پہنچیں، تو وہ برہنہ حالت میں غسل خانے سے نکلے اور اُنہیں جنسی فعل پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ ملازمہ نے وہاں سے بھاگ کر اپنے ساتھیوں کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا جنہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔

نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ جب اہلکار ہوٹل پہنچے، تو آئی ایم ایف کے سربراہ اپنا موبائل فون اور دوسری ذاتی اشیاء کمرے میں ہی چھوڑ کر ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔

Nicolas Sarkozy Dominique Strauss Kahn Robert Zoellick G-20-Gipfel Paris Frankreich Februar 2011

سٹراؤس کاہن کو فراس کی طرف روانگی سے چند لمحے قبل حراست میں لیا گیا

سٹراؤس کاہن نے سن دو ہزار سات میں آئی ایم ایف کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ وہ آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر نکولا سارکوزی کے اہم مدمقابل ہوں گے۔

کاہن ماضی میں بھی جنسی اسکینڈلز میں ملوث رہے ہیں۔ یہ دوسرا موقع ہے کی ان کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ سن 2008 میں ان کا اپنی ایک ماتحت اہلکار سے جنسی روابط قائم رکھنے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس پر انہوں نے اپنی بیوی اور آئی ایم ایف سے معافی بھی مانگی تھی۔ وہ تین بار شادی کر چکے ہیں۔ انہوں نے تیسری شادی معروف فرانسیسی ٹی وی رپورٹر سے کی تھی۔

کاہن کو سن 2007 میں پانچ سال کے لیے آئی ایم ایف کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ ان کا سالانہ تنخواہ چار لاکھ بیس ہزار نو سو تیس ڈالر ہے۔

فرانس کے وزیر خزانہ رہ چکے کاہن کو اتوار کو جرمن چانسلرانگیلا میرکل سے ملنا تھا لیکن اب یہ ملاقات ناممکن نظر آتی ہے۔ فی الحال سٹراؤس کاہن پولیس کی حراست میں ہیں اور ان سے تفتش جاری ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس