1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایم ایف کے سربراہ اپنا دفاع کریں گے، وکیل

آئی ایم ایف کے سربراہ سٹراؤس کاہن نے جنسی حملے کے سنگین الزامات کے حوالے سے طبی معائنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ انہیں نیویارک کے ایک ہوٹل کی ملازمہ سے جنسی زیادتی کی کوشش کے الزام پر ہفتہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

default

سٹراؤس کاہن

سٹراؤس کاہن کو اتوار کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا، تاہم طبی معائنے کے تناظر میں سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اتوار کو ان پر مجرمانہ جنسی فعل، غیرقانونی قید اور جنسی زیادتی کی کوشش کے الزامات پر مقدمہ قائم کیا گیا۔ نیویارک پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے سربراہ کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

نیویارک میں عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں سٹراؤس کاہن کے وکیل ویلیم ٹیلر نے کہا کہ ان کے مؤکل نے طبی معائنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تھکے ہوئے ہیں لیکن خیریت سے ہیں۔

سابق فرانسیسی وزیر خزانہ کے دوسرے وکیل بینجمن برافمین نے کہا کہ ان کے مؤکل نے الزامات کی تردید کی ہے اور وہ اپنا دفاع کریں گے۔ سٹراؤس کی اہلیہ اور معروف فرانسیسی صحافی Anne Sinclair نے بھی کہا ہے کہ ان کے شوہر بے گناہ ہیں۔

انہیں ہفتہ کو نیویارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ پر اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا، جب وہ یورپ واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ سٹراؤس کاہن اتوار کو برلن میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ملنے والے تھے جبکہ پیر کو برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں بھی ان کی شرکت طے تھی۔

Dominique Strauss-Kahn und Frau Anne Sinclair

سٹراؤس کاہن اپنی اہلیہ کے ساتھ

ان کی گرفتاری ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب ایک سو ستاسی رکنی آئی ایم ایف یورو زون کے مالی بحران کے شکار ممالک کی مدد کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ اسی حوالے سے یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کا اجلاس آج برسلز میں ہو رہا ہے۔

سٹراؤس کاہن کی عمر باسٹھ برس ہے۔ انہیں فرانس کا آئندہ صدارتی امیدوار تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم خبررساں ادارے اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس سیکس اسکینڈل کے تناظر میں سٹراؤس کا آئندہ فرانسیسی صدر بننے کا خواب ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف ڈائریکٹر برائے خارجہ تعلقات کیرولین ایتکنسون نے کہا کہ کاہن کی گرفتاری کے باوجود یہ ادارہ پوری طرح فعال ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس