1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایم ایف کی نئی سربراہ کے خلاف تحقیقات کا عدالتی حکم

پیرس کی ایک عدالت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ اور سابق فرانسیسی وزیر خزانہ کرسٹین لاگارڈ کے خلاف حکومتی خزانے کے غلط استعمال سے متعلق معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

default

لاگارڈ پر الزام ہے کہ جب وہ وزیر خزانہ تھیں تو انہوں نے صدر نکولا سارکوزی کے ایک قریبی دوست کو نوازتے ہوئے ایسے تصفیئے کی منظوری دی تھی، جس سے حکومتی خزانے کو 285 ملین یورو کا نقصان ہوا۔ صدر سارکوزی کے یہ دوست مشہور فرانسیسی تاجر و فن کار Bernard Tapie ہیں، جو خاصی شہرت کی حامل شخصیت ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق 55 سالہ کرسٹین لاگارڈ کو اس عدالتی حکم سے کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں۔

یہ معاملہ 1993ء میں ٹاپی اور کریڈٹ لائیونایس بینک کے مابین تنازعے سے متعلق ہے۔ ٹاپی نے اس بینک پر الزام عائد کیا کہ Adidas کی ملبوسات کی فروخت میں ان کے ساتھ فراڈ کیا گیا تھا۔ کرسٹین لاگارڈ کو اس وقت وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔

Bernard Tapie

Bernard Tapie

واضح رہے کہ فرانس کی اس خاتون سابق وزیر خزانہ نے حال ہی میں آئی ایم ایف کی سربراہی سنبھالی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ لاگارڈ نے بطور وزیر خزانہ دنیا بھر میں جو قدر و منزلت حاصل کر رکھی ہے اس پر ان تحقیقات کا خاص اثر نہیں پڑے گا۔ امکان ہے کہ تحقیقات کا سلسلہ کئی سال تک جاری رہے۔ لاگارڈ اپنے اوپر عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کر چکی ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بھی یہ وضاحت سامنے آچکی ہے کہ اس ادارے کا ایگزیکیٹیو بورڈ تحقیقات کے باوجود لاگارڈ کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ رکھتا ہے۔

یورپی کونسل برائے خارجہ امور سے وابستہ تھوماس کلاؤ کا کہنا ہے کہ بلاشبہ تحقیقات کا عدالتی فیصلہ سیاسی نکتہ نگاہ سے لاگارڈ کے لیے اچھا نہیں مگر اس کا کسی بہت بڑے مسئلے میں تبدیل ہوجانے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ لاگارڈ کے خلاف اس مقدمے کی درخواست حزب اختلاف کی سوشلسٹ پارٹی کے سیاست دانوں نے جمع کرائی تھی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: شامل شمس

DW.COM