1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس کے قبضے سے خیر سگالی کی سفیر تک

دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے ہاتھوں جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بننے والی اور پھر جنسی غلام بنا کر فروخت کر دی جانے والی لڑکی کو اقوام متحدہ نے خیر سگالی کا سفیر مقرر کر دیا ہے۔

نادیہ مراد کو اقوام متحدہ نے انسانی تجارت کا شکار بننے والے افراد کے لیے خیر سگالی کا سفیر مقرر کیا ہے۔ اب ان کی ذمہ داریوں میں انسانی اسمگلنگ سے متاثرہ افراد کی توقیر اور وقار کی بحالی کے لیے کام کرنا ہے اور وہ انصاف کی فراہمی میں ایسے لوگوں کو تعاون فراہم کریں گی۔ نادیہ کی عمر تیئس برس ہے اور ان کا تعلق عراق کی ایزدی برادری سے ہے۔ اقوام متحدہ کے مرکزی عمارت میں منعقد ہونے والے تقریب میں جس وقت نادیہ مراد کو خیر سگالی کا سفیر بنانے کا اعلان کیا گیا تو وہ انتہائی جذباتی دکھائی دیں۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ عراق میں ایزدی اقلیت کی نسل کشی کی مرتکب ہوئی ہے۔ ان کے بقول اس دوران ان کی والدہ اور بھائی کو قتل کر دیا گیا اور اس کے بعد انہیں بھی ہزاروں دیگر ایزدی لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی غلام کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔ نادیہ کے بقول ان میں کئی تو غلامی کے دوران ہلاک ہو گئیں جبکہ متعدد ابھی تک ان کے قبضے میں ہیں،’’انہوں نے مجھے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا‘‘۔

اگست 2014ء میں نادیہ مراد کو سنجار سے اغوا کرنے کے بعد اسلامک اسٹیٹ، موصل میں قائم اپنے مرکز میں لے گئی، جہاں انہیں متعدد مرتبہ اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ساتھ ہی انہیں کئی مرتبہ فروخت بھی کیا گیا۔ نادیہ مراد تین ماہ تک آئی ایس کی غلام رہنے کے بعد کسی طرح ان کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئیں،’’میں خوش قسمت تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہی مجھے وہاں سے بھاگ نکلنے کا موقع مل گیا، جبکہ بہت سی لڑکیاں ابھی تک اذیت میں ہیں۔‘‘ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی ایسے شخص کو اقوام متحدہ کی جانب سے یہ عہدہ دیا گیا ہے، جو خود بھی انسانی تاجروں کی بھینٹ چڑھ چکا ہو۔

نادیہ اس کے بعد سے جرمنی میں رہ رہی ہیں۔ نادیہ کے بقول دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ کے لاکھوں متاثرہ افراد کی نمائندگی کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اس عالمی ادارے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ نادیہ مراد کی آب بیتی سننے کے ساتھ ہی ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، ’’نادیہ نے یہ واضح کیا ہے کہ انسانی تجارت کے متاثرین کے لیے اقدامات کتنے ضروری ہیں۔ انصاف کا حصول ان کا حق ہے اور ہم انہیں یہ حق دیں گے۔ دنیا کو تبدیل کرنے میں یہ لوگ ہماری مدد کریں گے۔‘‘