1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس نے ’جہادی جان‘ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

’اسلامک اسٹیٹ‘ نے جہادی جان کے نام سے مشہور اپنے شدت پسند کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ آئی ایس کے انٹرنیٹ جریدے ’دابق‘ کے مطابق یہ شدت پسند بارہ نومبر کو شامی شہر الرقہ کے قریب کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوا۔

انگریزی زبان کے اس جریدے نے لکھا ہے، ’’جہادی جان کی کفار (غیر مسلموں) کے ساتھ نفرت اس کے ان اعمال میں دیکھی جا سکتی تھی، جس پر تمام کافر اقوام، مذاہب اور گروپوں کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور جنہیں ساری دنیا نے دیکھا۔‘‘جہادی جان کا شمار ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے معروف ترین دہشت گردوں میں ہوتا تھا۔ اس دہشت گرد کا اصل نام محمد جاسم اموازی تھا۔

محمد اموازی نے 2014ء میں آئی ایس کی کئی ویڈیوز میں امریکی، برطانوی اور شامی شہریوں سمیت کئی دیگر افراد کے سر قلم کیے تھے۔ اس نے کیمرے کے سامنے امریکی صحافیوں جیمز فولی اور اسٹیون سوٹلوف کے ساتھ ساتھ ایک جاپانی صحافی کینجی گوٹو کے سر بھی قلم کیے تھے۔ اس کے علاوہ جان نے ہی امریکی امدادی کارکن عبدالرحمٰن کیسگ اور برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہینس کے گلے پر چھری پھیری تھی۔ امریکی صحافی اسٹیون سوٹلوف کی والدہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا:’’مجھے اس دہشت گرد کے مرنے پر خوشی ہے لیکن اس سے میرے بیٹے کو واپس نہیں لایا جا سکتا۔‘‘

امریکی فوج کے کرنل اسٹیو وارن کے مطابق ’’گزشتہ برس نومبر میں شامی شہر الرقہ کے قریب ایک قافلے میں شامل گاڑی کو دو امریکی اور ایک برطانوی ڈرون طیارے نے نشانہ بنایا تھا۔‘‘ امریکی کرنل کے مطابق حکام کو یقین تھا کہ اس گاڑی میں ’جہادی جان‘ سفر کر رہا تھا۔

’جہادی جان‘ کی پیدائش کویت میں ہوئی اور اُس کے والدین نے اُس کا نام محمد اموازی رکھا تھا۔ جب وہ چھ سال کا ہوا تو یہ خاندان برطانوی دارالحکومت لندن جا کر آباد ہوگیا۔ لندن کے سماجی اعتبار سے ایک متوسط علاقے نارتھ کنسنگٹن میں اموازی کا بچین اور نوجوانی کا دور گزرا۔ اُس کے والد ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ بعد ازاں اسی علاقے میں مسلم انتہا پسند نیٹ ورک کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی اور اسے بے نقاب کرنے کا عمل شروع ہوا۔

اسکائی نیوز کی طرف سے شائع ہونے والی ایک دستاویز میں اموازی کی تاریخ پیدائش 17 اگست 1988ء درج ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ اُس کی انفارمیشن سسٹم اور بزنس مینیجمنٹ کی ڈگری سے پتہ چلتا ہے کہ اُس نے لوئر سیکنڈ کلاس سے امتحان پاس کر کے یہ ڈگریاں حاصل کی تھیں۔

Cage ' کیج‘ نامی ایک گروپ نے اموازی کے ساتھ کئی سال پر محیط خط و کتابت شائع کی ہے، جس میں کہا گیا کہ اموازی میں انتہا پسندانہ رجحانات کے جنم لینے کا سبب اُس کا 2009ء میں تنزانیہ کا پوسٹ گریجویشن ٹرپ بنا۔ اموازی نے ’کیج‘ کو اپنے تنزانیہ کے اس دورے کے بارے میں کہا تھا کہ وہ تعطیلاتی نوعیت کا تھا تاہم برطانوی حکام کی طرف سے اُس پر صومالیہ میں القاعدہ کے الشباب جنگجوؤں کے گروپ میں شامل ہونے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اموازی کے بارے میں جو دستاویزات شائع کی گئی ہیں، ان کے مطابق اس کا انتہا پسند نیٹ ورک ’دی لندن بوائیز‘ سے گہرا تعلق ہے اور اس گروپ کی تربیت الشباب گروپ نے کی ہے۔