1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس اور سلفیت کے خلاف جرمنی میں نوجوان مسلمانوں کی مہم

اسلامک اسٹیٹ کے تشدد اور سلفیت کے خلاف جرمنی میں نوجوان مسلمانوں کے ایک گروپ نے ایک انوکھی مہم شروع کی ہے۔ اس گروپ کا نام ’ٹوئیلوتھ میمو ریزے‘ ہے۔

اس ترکیب کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ ایک علامت ہے تینوں الہامی ادیان یعنی، عیسائیت، یہودیت اور اسلام کے مابین پائی جانے والی ایک مماثلت کا اظہار ہے۔ ان تینوں عقائد میں 12 کا ہندسہ بظاہر اہم خیال کیا جاتا ہے۔ یہودیت میں 12 اسرائیلی قبیلوں کا نظریہ پایا جاتا ہے تو مسیحیت میں حضرت عیسیٰ کے بارہ حواری موجود ہے اور مسلمانوں میں خاص طور سے شیعہ عقیدے کے لوگ 12 اماموں کو مقدس مانتے ہیں۔ اس قدر مشترک کو مد نظر رکھتے ہوئے جرمن نوجوان مسلمانوں نے 12th MemoRise کے نام سے اپنی تحریک شروع کی ہے۔

اس گروپ کے ایک سرکردہ رُکن حسن جواد جرمن شہر ڈُسلڈورف میں جرمن لسانیات کے شعبے کا ایک طالبعلم ہے۔ یہ دس سال کی عمر میں جرمنی پہنچا تھا اور اب اس کی عمر 25 برس ہے۔ وہ کہتا ہے،’’ اس مہم کا ساتھ تمام شیعہ مسلمان اور کافی بڑی تعداد میں سُنی مسلمان بھی دے رہے ہیں اور اس میں علوی عقیدے کا حامل، دو مسیحی، ایک یزیدی اور ایک بُدھ مت کا پروکار بھی شامل ہے‘‘۔

Symbolbild Mädchen Frauen Salafismus

مسلم خواتین میں بھی سلفیت کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے

یہ گروپ جرمنی کے مختلف شہروں کے پُر رونق علاقوں کے فُٹ پاتھ پر اپنا اسٹینڈ لگا کر کھڑے ہوتے ہیں اور وہاں سے یہ اپنے نظریات کی پرچار اور اپنی مہم کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔

اس مہم سے منسلک نوجوان مسلمانوں کا نصب العین یہ ہے کہ دیگر مسلمانوں کو چاہیے کے وہ انتہا پسندی اور اسلام کی غلط شکل پیش کرنے والے سلفیوں کے پروپیگینڈا کے خلاف اپنی سرگرمیوں کو تیز تر کر دیں اور دنیا کو اسلام کی صحیح اور اصل شکل دکھائی جائے۔ شہر کے ایسے علاقوں میں 12th MemoRise گروپ اپنا اسٹینڈ لگا رہا ہے جہاں سلفی بھی آئے دن اسٹینڈ لگا کر قرآن کے نسخے تقسیم کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے انتہا پسندانہ نظریات کی پرچار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Tunesien Salafistische Jugendliche (Symbolbild)

بہت سے بحران زدہ علاقوں میں یورپ سے نوجوان مسلمان جاکر آئی ایس میں شامل ہو رہے ہیں

واضح رہے کہ مغربی جرمنی کے چند علاقے مثلاً بون، زولنگن اور ووپرتال سے تعلق رکھنے والے سلفیوں نے اپنے تشددانہ رویوں کے حوالے سے خود ساختہ شریعہ پولیس کے اعلان کےذریعے میڈیا کی غیر معمولی توجہ بھی حاصل کر رکھی ہے۔ جرمن حکام اور امن پسند مسلمانوں کو اس بات کا ڈر ہے کہ سلفی نظریات کے حامل مسلمانوں کی تعلیمات کی وجہ سے جرمنی سے عراق اور شام جانے والے ایسے نوجوان مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے جو داعش یا آئی ایس کی صفحوں میں شامل ہو کر ان بحران زدہ ممالک میں جاری جنگ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

گروپ 12th MemoRise کا سرکردہ رُکن حسن جواد کہتا ہے’’ مسلمانوں کو چاہیے کے وہ اب جاگ جائیں اور انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں‘‘۔ اس کے علاوہ جواد نے یہ بھی کہا ہے کہ اس یورپی معاشرے میں اسلام کی کوئی دوسری شکل رائج کرنے کے لیے مسلمانوں کو بیرون ملک سے کنٹرول نہیں کیا جانا چاہیے۔ جرمنی میں بھی آسٹریا کی طرح مسلم برادری کی غیر ملک سے ہونے والی فنڈنگ پر قانونی ممانعت ہے اور اس قانون پر عمل درآمد ضروری ہے۔

DW.COM