1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس آئی کی کارروائی، القاعدہ بلوچستان کا سربراہ ہلاک

القاعدہ برصغیر کا اہم آپریشنل کمانڈر اور بلوچستان ونگ کا سربراہ عمر لطیف عرف لقمان پاکستانی صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی ایک مبینہ کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔

اس کارروائی کے دوران عمر لطیف کی بیوی اور پاکستان میں القاعدہ خواتین ونگ کی سربراہ طیبہ فریحہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن کے قبضے سے القاعدہ کی بعض اہم ترین دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ القاعدہ کا آپریشنل کمانڈر افغانستان کے علاقے نیمروز سے آٹھ ماہ قبل پاکستان پہنچ کر بلوچستان میں روپوش ہو گیا تھا۔

Pakistan Al-Qaida Ermordung und Festnahme

حکومت پاکستان نے ہلاک ہونے والے عمر لطیف کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے جبکہ اس کی بیوی کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی

انہوں نے کہا، ’’خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے القاعدہ کے روپوش دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ضلع چاغی میں پاک افغان سرحدی علاقے میں کی۔ ملزمان ایک خفیہ کمپاؤنڈ میں چھپے ہوئے تھے ۔ کارروائی کے دوران انٹیلی جنس اہلکاروں اور ملزمان کے درمیان دیر تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔ دو طرفہ فائرنگ کے دوران ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لئے اپنے دو بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے مہارت سے کارروائی کی جس میں صرف عمر لطیف مارا گیا۔‘‘

Pakistan Al-Qaida Ermordung und Festnahme

اس کارروائی کے دوران عمر لطیف کی بیوی اور پاکستان میں القاعدہ خواتین ونگ کی سربراہ طیبہ فریحہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کے بعد القاعدہ نے اپنے نیٹ ورک کو بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے ناکام بنادیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا ، ’’یہ کارروائی بہت اہم پیش رفت ہے۔ القاعدہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، جسے موثر حکمت عملی اور بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے القاعدہ کمانڈر عمر لطیف کا بھائی احمد بلال بھی القاعدہ بلوچستان چیپٹر کا اہم رہنما ہے۔ اس آپریشن کے دوران وہ اپنےساتھی سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے، جن کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ۔"

حکومت پاکستان نے ہلاک ہونے والے عمر لطیف کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے جبکہ اس کی بیوی کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ حکومتی بیان کے مطابق ملزم کی بیوی طیبہ عرف فریحہ دہشت گردی کے اہم واقعات میں جاسوس کا کام بھی کرتی رہی تھی۔ ملزمہ کی ایک اور بہن ماریہ کو کچھ عرصہ قبل پنجاب میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے خلاف کیس متعلقہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہلاک اور گرفتار ہونے والے ملزمان ملک کے مختلف حصوں میں بم دھماکوں، قادیانی مسلک کے افراد پر حملوں اور اہم شخصیات کے اغواء برائے تاوان کے درجنوں وارداتوں میں ملوث تھے۔