1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس آئی کی اعلیٰ قیادت ممبئی حملوں میں ملوث نہیں، ہیڈلی

امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنے والے ڈیوڈ ہیڈلی نے کہا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی قیادت ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث نہیں رہی۔

default

ہیڈلی کی عدالت میں پیشی کا خاکہ

ڈیوڈ ہیڈلی کو امریکہ میں بھارتی شہر ممبئی میں 2008ء کے حملوں کے حوالے سے مقدمے کا سامنا ہے۔ اس نے منگل کو عدالتی سماعت کے دوران بتایا کہ آئی ایس آئی کے چند اہلکار ہی ان حملوں کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔

ہیڈلی اس مقدمے میں دہشت گردی کے حوالے سے بارہ الزامات کا اعتراف کر چکا ہے۔ اس نے آئی ایس آئی میں شامل اپنے مبینہ ہینڈلرز کے حوالے سے شکاگو کی ایک عدالت کو بتایا: ’شاید کرنل کو پتہ ہو یا ہو سکتا ہے کہ گروپ کے ارکان میں سے بھی کوئی جانتا ہو۔‘

ہیڈلی کے اس بیان پر اس سے مزید وضاحت طلب کی گئی، یعنی کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ اور اعلیٰ قیادت ملوث نہیں ہے تو ہیڈلی کا جواب ’ہاں‘ تھا۔

نومبر 2008ء میں دہشت گردوں نے ممبئی کے مختلف مقامات پر حملے کیے، جو گھنٹوں جاری رہے۔ اس دوران ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ دہلی حکومت پاکستانی کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کو ان حملوں کے لیے ذمہ دار قرار دیتی ہے جبکہ ان کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات بھی مزید کشیدہ ہوئے اور ان کے درمیان جاری امن عمل بھی رک گیا۔

ہیڈلی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ دہشت گرد گروہ القاعدہ سے منسلک ایک پاکستانی تنظیم نے امریکی ڈیفنس گروپ لاکہیڈ مارٹن کے سربراہ رابرٹ اسٹیونز کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اس نے کہا کہ یہ منصوبہ اس گروپ کی جانب سے ڈرون طیارے بنانے کے ردِ عمل کے طور پر بنایا گیا تھا۔ ہیڈلی نے بتایا کہ وہ خود اس منصوبے پر حرکت الجہاد الاسلامی (ایچ یو جے آئی) کے کمانڈر الیاس کشمیری اور القاعدہ کے ایک سینئر رکن کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔

Indien Terroranschläge Mumbai Bombay Terror Gedenken 26/11 Flash-Galerie

ممبئی حملوں میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے

تاہم خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لاکہیڈ گروپ نے اس پہلو پر کوئی بیان دینے سے انکار کیا ہے کہ انہیں مبینہ منصوبے سے آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں اور کیا رابرٹ اسٹیونز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کسی طرح کے اضافی اقدامات کیے گئے تھے۔ اسٹیونز 2004ء سے اس گروپ کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔

ہیڈلی نے الیاس کشمیری کے ساتھ مل کر ڈنمارک کے اخبار Jyllen Posten پر حملے کا منصوبہ بنانے کا اعتراف بھی کیا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کے پیغمبر کے متنازعہ خاکے شائع کیے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس