1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس آئی طالبان کی امداد بند کرے: امریکہ کی تنبیہہ

امریکی افواج نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا ہے اس کے پاس ایسے شواہد ہیں کہ وہ طالبان کی مدد کررہی ہے۔

default

ماضی قریب میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں آئی ایس آئی نے طالبان عسکریت پسندوں کو امریکی حملوں سے بچانے کے لیے معلومات دی ہیں، جنرل ڈیوڈ پیٹریئس

Amerikanische Soldaten in Afghanistan

امریکی افواج کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی میں آئی ایس آئی رکاوٹ ہے

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائک مولن نے امریکی ٹی وی ’سی این این‘ کو دیے گئے لیک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ آئی ایس آئی افغانستان اور پاکستان میں طالبان عسکریت پسندوں کی امداد کر رہی ہے اور پاکستان کو اس کو روکنا ہوگا۔ ایڈمرل مائک مولن کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے افغان سرحد اور بھارت کے ساتھ سرحد دونوں ہی جانب عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط ہیں۔

Taliban, Archivbild

طالبان کے خلاف جنگ کے لیے امریکی صدر نے مزید چار ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے


امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کا بھی کہنا ہے کہ بعض عسکری گروہ آئی ایس آئی نے تخلیق کیے ہیں اور آئی ایس آئی کے عہدیداروں کے ان کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں آئی ایس آئی نے طالبان عسکریت پسندوں کو امریکی حملوں سے بچانے کے لیے معلومات دی ہیں۔

جنرل پیٹریئس کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کی عسکریت پسندوں کو امداد کا موضوع اس لیے بے حد اہم ہے کہ یہ عسکریت پسندوں کے خلاف جاری امریکی افواج کے آپریشن کے لیے نقصان دہ ہے۔ امریکی افواج کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ یہ روابط خاصے گہرے ہیں جس کا ندازہ شروع میں غلط لگایا گیا تھا۔

Konflikt Indien Pakistan

امریکہ کے مطابق آئی ایس آئی بھارت سے ملحق سرحد پر بھی عسکری گروہوں کی مدد کرتی ہے


واضح رہے کہ امریکی افواج کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کے یہ بیانات امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے گزشتہ روز پیش کی گئی نئی افغان پالیسی کے فوراً بعد آئے ہیں۔ نئی افغان پالیسی میں امریکی صدر اوباما نے پاکستان اور افغانستان کو ایک ہی مسئلہ قرار دیا ہے۔ صدر اوباما نے پاکستان میں موجود القاعدہ کو امریکہ اور دنیا بھر کے تحفظ کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور پاکستانی حکومت کو اس حوالے سے مزید کارروائی کرنے کے لیے کہا ہے۔ امریکی صدر نے مزید چار ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

Barack Obama

امریکی صدر اوباما نے افغانستان اور پاکستان میں موجود القاعدہ کو دنیا بھر کے لیے خطرہ قرار دیا ہے


آئی ایس آئی سے متعلق امریکی جرنیلوں کے بیانات کا افغان صدر حامد کرزئی نے بھی خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آئی ایس آئی طالبان کی امداد کر رہی ہے۔

پاکستانی حکومت اور فوج آئی ایس آئی کے طالبان عسکریت پسندوں اور کلعدم اسلامی انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ وابط کی تردید کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں بعض سیاسی تجزیہ نگار، بائیں بازو اور قوم پرست جماعتیں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آئی ایس آئی کے عسکری گروہوں سے تعلقات پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ پاکستان کی سابق مقتول وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹّو بھی آئی ایس آئی پر طالبان کی پشت پناہی اور پاکستان میں سیاسی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کرتی رہی تھیں۔