1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے تعلقات کشیدہ

پاکستانی خفیہ ادارے ISI کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ امریکی اور پاکستانی مشترکہ انٹیلی جنس آپریشنز جنوری سے رُکے ہوئے ہیں۔ یہ آپریشنز جنگجوؤں کے خلاف کارروائی اور افغانستان جنگ کے حوالے سے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

default

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں مزید سرد مہری پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی بڑی وجوہات میں مارچ میں کیا گیا مبینہ امریکی ڈرون حملہ اور ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ بنا،’ فی الحال مشترکہ آپریشنز رکے ہوئے ہیں‘۔

پاکستانی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کے اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن اور اسلام آباد حکومتوں کے مابین تناؤ اس وقت پیدا ہوا جب ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں کو ہلاک کیا تھا۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ساتھ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈیوس نے ستائیس جنوری کو لاہور شہر میں دو پاکستانیوں کو ہلاک کیا تھا۔ اگرچہ اس واقعہ کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم بعدازاں ایک طویل کشمکش کے بعد اسلامی قوانین قصاص و دیت کا سہارا لیتے ہوئے اسے رہائی کا پروانہ مل گیا تھا۔

US Drone Predator Flash-Galerie

سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے مابین کشیدہ تعلقات کی وجہ ڈرون حملے بھی ہیں

ماضی میں پاکستان اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے مشترکہ آپریشنز کی بدولت پاکستان میں موجود القاعدہ نیٹ ورک کے کئی اہم رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کا نام سر فہرست آتا ہے۔

آئی ایس آئی کے اعلیٰ اہلکار نے کہا،’یہ ہمارا ملک ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مسائل کیسے حل کرنے ہیں۔ ہم تمام ضابطے طے کریں گے۔ یہ افغانستان نہیں ہے‘۔ انہوں نے اصرار کیا کہ سی آئی اے کو پاکستان میں اپنی جاسوسی کے نظام کو ختم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا اور مستقبل میں ریمنڈ ڈیوس جیسے واقعات رونما نہیں ہونے چاہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملوں پر بھی کافی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ سترہ مارچ کو ہوئے ایک ایسے ہی حملے کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جس کےبعد غیر متوقع طور پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی مذمتی بیان جاری کیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM