1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس آئی امریکہ کے نزدیک دہشت گرد تنظیم، وکی لیکس

برطانوی اخبار ’گارڈیئن‘ نے وکی لیکس سے ملنے والی خفیہ امریکی دستاویزات شائع کی ہیں، جن کے مطابق امریکی حکّام آئی ایس آئی کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔

default

پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی (بائیں) اور آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا (دائیں)

پیر کے روز برطانیہ کے مؤقر اخبار ’گارڈیئن‘ نے وکی لیکس سے موصول ہوئی امریکہ کی وہ خفیہ دستاویزات شائع کی ہیں، جن کے مطابق امریکی حکّام کے نزدیک پاکستان کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی ایک دہشت گرد ادارہ یا تنظیم ہے۔

ان دستاویزات کی اشاعت نے امریکہ اور پاکستان، اور بالخصوص امریکی سی آئی اے اور پاکستانی آئی ایس آئی کے درمیان اختلافات کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق دو ہزار سات میں تیّار کردہ امریکہ کی ایک خفیہ فہرست میں دہشت گرد تنظیموں میں آئی ایس آئی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ’گارڈین‘ کے مطابق اس فہرست میں ستر تنظیمیں ہیں، جن میں ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی، طالبان، حمّاس اور حزب اللہ جیسی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ یہ فہرست گوانتانامو بے کی متنازعہ امریکی جیل کے میمورینڈم سے حاصل کی گئی ہے۔

NO FLASH Wikileaks Assange

وکی لیکس کے خالق جولیان آسانج

پاکستانی افواج کے شعبہ برائے تعلقاتِ عامہ یا آئی ایس پی آر نے برطانوی اخبار میں چھپنے والی ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائک مولن نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے پاکستان کی فوجی اور سویلین قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ مولن اس دورے سے قبل پاکستان اور آئی ایس آئی کے حوالے سے خلافِ توقع خاصے سخت بیانات دے چکے تھے۔

دستاویزات میں ایک جگہ گوانتانامو میں تفتیش کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ انیس سو نوّے سے لے کر دو ہزار تین تک آئی ایس آئی کے ساتھ تعلق طالبان یا القاعدہ کے ساتھ تعلق کی ایک علامت ہو سکتا ہے۔

Raymond Davis

پاکستان میں سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری نے سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات کو مزید خراب کردیا

واضح رہے کہ پاکستانی افواج اور آئی ایس آئی نے انیس سو نوّے کی دہائی کے آغاز میں طالبان کی تشکیل میں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا تاہم ستمبر دو ہزار ایک کے بعد پاکستان نے طالبان کے خلاف جنگ میں امریکی حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

تاہم پاکستان کے حکومتی اہلکار بارہا طالبان کے ساتھ روابط کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ثبوت کے طور وہ گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمّد کا حوالہ دیتے ہیں جس کو آئی ایس آئی نے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تھا۔

امریکہ کی خفیہ دستاویزات میں گوانتانامو کی جیل میں مقیّد حاجی صاحب روح اللہ وکیل کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق بعض افغانوں نے القاعدہ کے رہنماؤں کو پاکستان فرار ہونے میں مدد دی اور پاکستانی سرحد پر پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پاکستانی سرحد کے اندر داخل ہونے دیا۔ دستاویزات کے مطابق وکیل آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے کام کرتا تھا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM