1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئی ایس آئی:امریکی پریشانی کا باعث پاکستانی خفیہ ادارہ

اعلیٰ امریکی دفاعی اہلکاروں کوتشویش ہے کہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے میں ممکنہ طور پر ایسے عناصر ہو سکتے ہیں، جو طالبان اور دیگر باغی گروپوں کے ساتھ نامناسب رابطوں میں ملوث ہوں۔

default

آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا وزیر اعظم گیلانی کے ہمراہ،فائل فوٹو

واشنگٹن میں امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ایک ترجمان نے ابھی حال ہی میں کہا کہ آئی ایس آئی میں ایسے ممکنہ عناصر کی موجودگی پر امریکہ کو بڑی تشویش ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان کرنل ڈیوڈ لیپن نے بتایا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی جانتے ہیں کہ واشنگٹن کو پاکستانی فوج کے اس خفیہ ادارے میں ایسے عناصر کی موجودگی پر بڑی تشویش ہے۔

کرنل لیپن کے بقول جنرل کیانی ماضی میں خود بھی آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں اوراس ادارے میں ممکنہ طور پر نامناسب رویے کے حامل اہلکاروں کی موجودگی پرنہ صرف اشفاق کیانی امریکی تشویش سے آگاہ ہیں بلکہ انہیں خود بھی اس بارے میں کافی حد تک تشویش ہے۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا انتہائی اہم اتحادی ہے۔ لیکن پاکستان کے اس سب سے بڑے اور منظم خفیہ ادارے کے بارے میں کئی سوال ایسے ہیں، جن کا جواب امریکہ کے پاس بھی نہیں ہے۔ یہ بات واشنگٹن کے لئے اس لئے بہت خوش کن نہیں کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ، خاص کر افغانستان میں اپنے فوجی مشن کی کامیابی کے لئے پاکستان کی مدد حاصل کرنے پر مجبور ہے۔

US Geheimdienste CIA

ISI اور CIA کے درمیان باہمی تعلقات کھچاؤ کا شکار ہیں

اس بارے میں خبررساں ادارے روئٹرز نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ کئی عسکری ماہرین کی رائے میں پاکستان کا یہ سب سے بڑا فوجی خفیہ ادارہ کئی حوالوں سے منفی سرخیوں کی وجہ بھی بنا رہتا ہے۔ کئی مغربی ماہرین تو اسے ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ کا نام بھی دیتے ہیں۔پاکستان میں بہت سے شہری اس فوجی خفیہ سروس سے خوف کھاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملک پاکستان کی بہت سی پالیسیوں میں اس ادارے کا بھی کافی عمل دخل ہوتا ہے۔ تاہم یہ عمل دخل دکھائی نہیں دیتا۔

1948میں قائم کی جانے والی پاکستانی فوج کی اس انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ماضی میں امریکہ کی سی آئی اے سے بہت قریبی رابطے رہے ہیں۔ آج بھی ISI اور CIA کے درمیان تعاون تو موجود ہے لیکن دونوں کے باہمی تعلقات بڑی حد تک کھچاؤ کا شکار بھی ہیں۔آئی ایس آئی ایک خفیہ ادارے کے طور پر کتنا بڑا ہے، اس بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ تاہم اس کے اہلکاروں کی تعداد کئی ہزار بنتی ہے۔ وہ مخبر اس تعداد کے علاوہ ہیں، جو زندگی کے ہر شعبے میں اس ادارے کے لئے معلومات جمع کرتے ہیں اور اس انٹیلی جنس سروس کے اہلکاروں کو اطلاع دیتے ہیں۔

آئی ایس آئی نے 1979 اور 1989 کے درمیانی عرصے میں افغانستان پر سوویت فوجی قبضے کے دور میں بڑی اہمیت اختیارکر لی تھی۔تب اس ادارے نے ا مریکہ اور سعودی عرب کی مدد سے افغان مجاہدین کی اتنی مالی اور فوجی مدد کی کہ وہ بالآخر سوویت دستوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ بعد کے عرصے میں افغانستان میں طالبان کا وجود بھی آئی ایس آئی کی مدد سے ہی عمل میں آیا تھا۔

آج آئی ایس آئی سرکاری طور پر تو افغان طالبان کی سرپرستی ختم کر چکی ہے مگر بہت سے غیر جانبدار ماہرین اور مغربی فوجی کمانڈروں کے بقول اس ادارے کے طالبان باغیوں سے رابطے ابھی تک موجود ہیں۔ اس وقت اس پاکستانی خفیہ ادارے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا ہیں، جو فوج کے سربراہ جنرل کیانی کے قریبی ساتھی ہیں۔وہ طالبان کے بڑے مخالف سمجھے جاتے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ افغان طالبان کے مختلف گروپوں اور کابل حکومت کے مابین کسی نہ کسی طرح کوئی سمجھوتہ طے پا جائے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس