1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آئیڈیل مرد کی تلاش

دنیا میں کون سا ایسا نوجوان لڑکا یا لڑکی ہو گی، جسے آئیڈیل کی تلاش نہ ہو۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں گزشتہ جمعہ کے روز سے ایک ایسی نمائش جاری ہے، جس کا نام ’آئیڈیل مرد‘ رکھا گیا ہے۔

default

اس نمائش میں دنیا کے بہترین فوٹوگرافروں کی 150 سے زائد آئیڈیل مردوں کی تصاویر بھی رکھی گئی ہیں۔ یہ نمائش آئیڈیل مردوں کے بارے میں ہے اور اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آج کل کے دور میں کس قسم کے مردوں کو پسند کیا جاتا ہے۔ مردوں کا رنگ، حلیہ، بال اور لباس کس طرح کے ہونے چاہیئں کہ لوگ انہیں محبت کی نگاہ سے دیکھیں۔

اس نمائش کی منتظم نادینے بارتھ کہتی ہیں، ’’اسّی کی دہائی میں ایسے ورزش کرنے والے مردوں کو پسند کیا جاتا تھا، جو طاقتور دکھائی دیتے تھے۔ نوے کی دہائی میں ایسے ہپی ٹائپ لڑکوں کو پسند کیا جانے لگا، جن کے بال لمبے ہوتے تھے۔ لیکن آج ہماری خواہشیں بدل چکی ہیں۔ آج ہم چاہتے ہیں کہ لڑکا پڑھا لکھا ہو، پراعتماد ہو اور صورت کے ساتھ ساتھ اس کا کردار بھی اچھا ہو۔‘‘

Bodybuilding, Doping, Dopingmissbrauch, Stereoide, Kraftsport

’’اسّی کی دہائی میں ایسے ورزش کرنے والے مردوں کو پسند کیا جاتا تھا، جو طاقتور دکھائی دیتے تھے

اس نمائش میں رکھی گئی تصویروں کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں نئے چہروں کے ساتھ وہی روایتی طریقے سے بنائی گئی تصاویر رکھی گئی ہیں۔ آج کے آئیڈیل اور ماڈل لڑکوں میں وہ کون سی بات ایسی ہے، جو پہلے مردوں میں نہیں ہوتی تھی۔

نمائش کی منتظم نادینے بارتھ کہتی ہیں، ’’تصویروں کا انداز آج بھی روایتی ہے لیکن چہرے نئے ہیں۔ آج کے ماڈلز میں نئی بات یہ ہے کہ وہ خوبصورت ہونے کے علاوہ دلچسپ شخصیت کے مالک بھی ہوتے ہیں۔ مضبوط جسموں کے ساتھ ساتھ وہ علمی لحاظ سے بھی آپ کو متاثر کرتے ہیں۔‘‘

اگر ان تصاویر کو رول ماڈل بنایا جائے تو آج کے آئیڈیل مرد کو خوبصورت، رومانوی، عقل مند، پڑھا لکھا اور کردار کا اچھا ہونے کے علاوہ کئی دوسری خصوصیات کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود اس نمائش میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایک مرد، چاہے اس میں کتنی ہی خصوصیات کیوں نہ ہوں، ہر عورت کا آئیڈیل نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی مرد یا عورت کی آئیڈیل شخصیت کیسی ہونی چاہیے، یہ ہر ایک کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM