1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئیوری کوسٹ: یورپی یونین نے اقوامِ متحدہ کی کارروائی کی حمایت کردی

یورپی یونین نے اپنے ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے آئیوری کوسٹ میں لاراں باگبوکے خلاف کارروائی کی تائید کی ہے اور اسے عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر اقدام قرار دیا ہے۔

default

فرانسیسی افواج آبیجان میں کارروائی کر رہی ہیں

یورپی یونین کے صدر ہیرمان فان رومپوئے نےکہا ہے کہ وہ آئیوری کوسٹ میں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی اقوامِ متحدہ کی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امن اُسی صورت میں قائم ہوگا، جب باگبو اقتدار سےعلیحدہ ہو جائیں۔ رومپوئے نے آئیوری کوسٹ کی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پیرکے روز فرانس اور اقوامِ متحدہ کے ہیلی کاپٹروں نے متنازعہ صدر باگبو کے صدارتی محل اور آبیجان میں باگبوکے ٹھکانوں پر حملے کیے۔ تیس مارچ کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے منظور کی گئی ایک قرارداد کے مطابق گزشتہ برس نومبر میں ہوئے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد باگبو کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

EU Ratspräsident Herman Van Rompuy in Bosnien und Herzegowina NO FLASH

رومپوئے نے آئیوری کوسٹ کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے

دوسری جانب بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ صدر الاسان وتارا نے باگبو کی حامی فورسز پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وتارا کے حامیوں اس کو باگبوکے خلاف ’حتمی کارروائی‘ قرار دے رہے ہیں۔ پیر کے روز فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے فرانس سے درخواست کی ہے کہ وہ آئیوری کوسٹ میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کی مدد کرے۔

واضح رہے کہ آئیوری کوسٹ فرانس کی سابق نوآبادی ہے اور وہاں بارہ ہزار کے لگ بھگ فرانسیسی آباد ہیں۔ ڈیڑھ ہزار کے قریب فرانسیسی افواج آبیجان میں کارروائی کر رہی ہیں اور انہوں نے ہوائی اڈّے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق دو فرانسیسی باشندوں کو باگبو کی فورسز اغوا کرچکی ہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ آئیوری کوسٹ میں اقوامِ متحدہ کی کارروائی وہاں عام شہریوں کو خانہ جنگی کے دوران بچانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ باگبو کی فورسز کی جانب سے عام شہریوں کو قتل کرنے کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM