1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئیوری کوسٹ کے صدر کو مغربی دنیا کا تعاون

آئیوری کوسٹ کے صدر الاسان وتارا کو مغربی دنیا نے تعمیر نو اور خانہ جنگی کی روک تھام میں ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سے قبل ان کے سابق حریف لاراں باگبوکے فوجی سربراہان نے بھی انہیں اپنا تعاون فراہم کرنے کا اعلان

default

آئیوری کوسٹ کے سرکاری ٹیلی وژن پر صدر وتارا اور فوجی سربراہان کو ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ملاقات کرنے والوں میں فوجی سربراہان سمیت چیف آف جنرل سٹاف Philippe Mangou بھی شامل تھے۔ فلپ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ انہوں نے ملک بھر میں سکیورٹی اہلکاروں کو حکم نامہ جاری کردیا ہے کہ وہ صدر وتارا کے اعانت کریں۔ اس سے قبل فلپ کی سربراہی ہی میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار وتارا کے خلاف برسر پیکار تھے۔

وتارا طویل مسلح تنازعے کے بعد اب مکمل طور پر آبیجاں شہر کے صدارتی محل میں ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔باگبو کی جانب سے نومبر کے صدارتی انتخاب میں شکست تسلیم نہ کرنے کے بعد ہنگاموں میں اب تک ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ باگبو کی گرفتاری کے بعد اس بد امنی کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے منصب صدارت سنبھالنے پر وتارا کو مبارکباد دی ہے اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

NO FLASH Afrika Elfenbeinküste UN Schutztruppen

آئیوری کوسٹ میں اقوام متحدہ کے امن دستوں نے بھی وتارا کا ساتھ دیا

یورپی یونین نے وتارا پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد قومی حکومت تشکیل دیں اور اس جنگ زدہ ملک میں روز مرہ کے معمولات بحال کریں۔ یورپی یونین نے آئیوری کوسٹ کے لیے 180 ملین یورو کا امدادی پیکج تشکیل دیا ہے۔ نوآبادیاتی دور میں آئیوری کوسٹ پر حکمرانی کرنے والے فرانس نے اسے 400 ملین یورو کی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی آئیوری کوسٹ کی نئی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی حامی بھری ہے۔ ورلڈ بینک نے گزشتہ سال آئیوری کوسٹ کے لیے امداد معطل کردی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کو خدشہ ہے جن نوجوانوں کو باگبو نے مسلح کرکے اپنا حامی بنا رکھا تھا اب وہ قیادت کے فقدان اور شکست کی مایوسی کے سبب بہت زیادہ خطرناک ہوگئے ہیں۔ ایسے مطالبے بھی کیے جارہے ہیں کہ باگبو سے مذاکرات کرکے مستقل قیام امن کے لیے ان کا تعاون حاصل کیا جائے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM