1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئیوری کوسٹ کے دارالحکومت پر وتارا کی فوج کا قبضہ

افریقی ملک آئیوری کوسٹ میں صدارتی الیکشن جیتنے والے وتارا کی حامی فوج نے انتظامی دارالحکومت یاماسُوکرو پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب اقتدار پر قابض باگبو کے خلاف سلامتی کونسل نے پابندیوں کی قرارداد منظور کر لی ہے۔

default

گزشتہ سال صدارتی الیکشن جیتنے والے لیڈر السان وتارا اب منصب صدارت پر قابض باگبو کے خلاف فوج کشی میں مصروف ہیں۔ ان کی حامی فوجی شمال سے جنوبی حصے کی جانب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس پیش قدمی کے دوران وتارا کی فوج نے انتظامی دارالحکومت یاماسُوکرو پر قبضے کا اعلان کیا ہے۔ وتارا کی حامی فوج کو شہر میں داخل ہوتے وقت کچھ مزاحمت کا سامنا ضرور رہا لیکن لاراں باگبو کی فوج نے آخرکار پسپائی میں عافیت سمجھی۔

یہ اہم ہے کہ آئیوری کوسٹ میں عابی جان سب سے اہم اور بڑا شہر ہے۔ دارالحکومت یاماسُوکرو کا شہر عابی جان سے شمال مغرب کی سمت پر 240 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یاماسُوکرو دارالحکومت ضرور ہے لیکن تاحال تمام حکومتی ادارے عابی جان میں ہی حکومتی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ انتظامی دارالحکومت پر قبضے سے وتارا کی حامی فوج کا مورال بہت بلند ہوا ہے۔ یہ باگبو کے خلاف ایک علامتی فتح بھی قرار دی جا سکتی ہے۔ وتارا کی حامی فوج اہم بندرگاہی شہر سان پیڈرو میں بھی داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش قدمی سے وتارا کی فوج کو خاصی قوت حاصل ہو رہی ہے۔ وتارا کی حامی فوج نے رواں ہفتے کے دوران کئی مقامات پر فوج کشی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔

NO-Flash Demonstrationen in Abidjan Elfenbeiküste

عابی جان میں باگبو کے خلاف پرتشدد مظاہرے کا ایک منظر

سان پیڈرو کی جانب بڑھتی فوج کا عابی جان کی جانب راستہ اب تین گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ اس فوج کے ساتھ یاماسُوکرو پر قابض ہونی والی فوج کی شمولیت بھی ممکن ہے۔ ایسے امکانات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ عابی جان کے گرد و نواح میں باگبو اور وتارا کی حامی افواج کے درمیان گھمسان کی جنگ ہو سکتی ہے۔ اس صورت حال سے عابی جان کے شہریوں میں خوف و ہراس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل نے بدھ کے روز اقتدار پر قابض لاراں باگبو کے خلاف پابندیوں کی ایک قرارداد کی منظوری دی ہے۔ اس قرارداد کی منظوری کے بعد باگبو اور ان کے کئی حامیوں کو بیرون ملک سفر کرنے کی پابندی کا سامنا کرنا ہو گا۔ ان افراد کے اثاثوں کو بھی منجمد کردیا جائے گا۔ کونسل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔ کونسل نے اپنی قرارداد میں شہریوں، خواتین اور بچوں کے خلاف دونوں لیڈروں کی حامی افواج اور کرائے کے فوجیوں کی پرتشدد کارروائیوں کی پرزور مذمت بھی کی ہے۔

صدارتی الیکشن کے بعد اقتدار نہ چھوڑنے کی ضد کی وجہ سے آئیوری کوسٹ انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ سارے ملک میں بےچینی کی فضا قائم ہے اور دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مختلف پرتشدد واقعات میں کم از کم 462 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس