1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آئیوری کوسٹ : پارلیمانی انتخابات اور باگبو کی جماعت کا بائیکاٹ

گزشتہ برس11دسمبر کو باگبو الیکشن ہارنے کے باوجود خود کو صدر سمجھ رہے تھے۔ آج ایک سال بعد آئیوری کوسٹ میں ایک نئی پارلیمان منتخب کی جا رہی ہے اور باگبو بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اپنے مقدمے کی کارروائی کے منتظر ہیں۔

default

امن و امان کی صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کے بھی سات سو فوجی تعینات کیے گئے ہیں

آئیوری کوسٹ کے سابق صدر لوراں باگبو پرالزام ہے کہ انہوں نے سینکٹروں افراد کو قتل کر وایا ہے۔ دوسری جانب ان کی گرفتاری اور ان کی دی ہیگ حوالگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کے جماعت نے آج ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا بائیکا ٹ کر دیا ہے۔ باگبو کی جماعت ’آئیوورین پاپولر فرنٹ‘ ایف پی آئی کا موٹو ہے، جب تک لوراں باگبو قید ہیں تب تک انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔ باگبو کے ساتھ ان کی کابینہ کےکئی سابق وزراء بھی دی ہیگ میں زیر حراست ہیں۔

ایف پی آئی نے گزشتہ ماہ یعنی11نومبرکو اس وقت شدید احتجاج کیا، جب باگبوکو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کیا گیا۔ پارٹی کے بیان کے مطابق انتخابات کے ساتھ ساتھ مصالحتی عمل کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ ایف پی آئی کے ترجمان مامادو بامبا کے بقول’’ ہمارے خیال میں لوراں باگبو کو اغوا کر کے دی ہیگ کے حوالے کرنے میں آئیوری کوسٹ کے حکام برابر کے شریک ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایف پی آئی سے ہر طرح کے مذاکرات کا خاتمہ‘‘۔

باگبو کی جماعت کا کہنا ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینا وتارا کی حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا جبکہ وہ اس حکومت کو مسترد کر چکے ہیں۔ اس صورتحال میں وہ سیاسی جماعتیں ان کا ساتھ دے رہی ہیں، جو باگبو کے دور میں حکومت کا ساتھ دیا کر تی تھیں۔

Den Haag Laurent Gbagbo vor Gericht Dezember 2011

باگبو کو نومبر میں دی ہیگ منتقل کیا گیا

یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں آئیوری کوسٹ میں صدارتی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ اس میں لوراں باگبو کا مقابلہ عالمی مالیاتی فنڈ کے سابق اہلکار آلاساں وتارا سے مقابلہ تھا۔ وتارا بین الاقوامی سطح پر بھی ایک سیاستدان کے طور پر مشہور ہیں۔ نتائج سامنے آنے پر باگبو کو شکست ہوئی لیکن انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے خود کو فاتح قرار دے دیا۔ الاساں وتارا نے کرسی صدارت کا مطالبہ کیا، جسے رد کر دیا گیا اور یوں وتارا اور باگبو کے حامیوں کے مابین فسادات شروع ہو گئے۔

اقتدار کے حصول کی جنگ کے شعلے پورے ملک میں بھڑک اٹھے اور اس کی لپیٹ میں تقریباً تین ہزار افراد آئے۔ کئی ہزار زخمی ہوئے اور لاکھوں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ملک کے مغربی حصے میں نسل کشی کی گئی اور اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔ اس موقع پر بین الاقوامی برادری نے وتارا کا ساتھ دیا لیکن وہ بھی تنازعے کو حل کرنے میں ناکام رہی۔

بہرحال رواں سال اپریل میں لوراں باگبو کو گرفتار کیا گیا اور اقتدار کی باگ ڈور وتارا کے ہاتھوں میں دے دی گئی۔ ایک جانب وتارا آئیوری کوسٹ کے سیاسی نظام کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ سابق صدر باگبو دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے کے انتظار میں ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : عابد حسین

DW.COM