1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئیوری کوسٹ: وتارا نے صدارتی منصب سنبھال لیا

ایک شاندار تقریب میں الاسان وتارا نے آئیوری کوسٹ کے صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ انہوں نے چھ مئی کو بطور صدر حلف اٹھایا تھا۔ اس تقریب میں کئی افریقی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ فرانسیسی صدر نے بھی شرکت کی۔

default

آئیوری کوسٹ کے سابق صدر لاراں باگبو کے صدارتی انتخابات میں ناکام ہونے کے باوجود اقتدار سے الگ نہ ہونے پر ملک میں شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم گیارہ اپریل کو انہیں اقتصادی دارالحکومت آبیجان سے گرفتار کر لیا گیا تھا، جس کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے۔

ہفتے کے دن پُر شکوہ تقریب میں بطور صدر اپنا منصب سنبھالتے ہوئے وتارا نے کہا،’اب وقت آ گیا ہے کہ خوبصورت ملک آئیوری کوسٹ کی اصل اقدار کو از سر نو اجاگر کیا جائے‘۔ اس تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور براعظم افریقہ کی کئی اہم سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر 69 سالہ الاسان وتارا نے کہا،’ آئیں! امن کی خوشی منائیں، کیونکہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے‘۔

اس تقریب کے دوران وتارا نے وعدہ کیا کہ ملک میں پارلیمانی انتخابات اسی برس کروائے جائیں گے، جس پر لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے گانے گائے اور رقص بھی کیا۔

NO FLASH Elfenbeinküste Vereidigung Alassane Ouattara

وتارا نے ملکی صدر کے بطور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں

وتارا نے کہا جمہوریت جیت گئی ہے،’ آج کا دن ہمارے لیے ایک تاریخی دن ہے‘۔ ملک کے حالات بہتر بنانے کے لیے پیرس حکومت کی طرف سے کیے گئے تعاون پر وتارا نے بالخصوص فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کا شکریہ بھی ادا بھی کیا۔ آئیوری کوسٹ میں بحران کے دوران پیرس حکومت نے اپنی اس سابقہ نوآبادیاتی ریاست کو ہر مکن مدد فراہم کی تھی۔

تقریب کے بعد نکولا سارکوزی نے دارالحکومت کے نواح میں واقع فرانسیسی فوجی اڈے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ پیرس حکومت آئیوری کوسٹ کے عوام کے تحفظ کے لیے اپنے کچھ فوجی دستے وہیں تعینات رکھے گی۔

آئیوری کوسٹ میں گزشتہ برس نومبر میں منعقد ہوئے صدارتی انتخابات میں سابق صدر باگبو کو شکست ہوئی تھی تاہم انہوں نے اقتدار سے الگ ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ اس دوران پرتشدد فسادات کے نتیجے میں کم ازکم تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہمسایہ ملکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM