1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئیوری کوسٹ میں صورت حال بدستور کشیدہ

مغربی افریقی ملک آئیوری کوسٹ میں اقتدار اعلیٰ کے حصول کے لیے منتخب صدر السان وتارا اور انتخابی شکست کے باوجود برسر اقتدار لاراں باگبو کے مسلح حامیوں کے مابین تناؤ برقرار ہے۔

default

ملک کے سب سے بڑے شہر آبیجان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین دن کی شدید جھڑپوں کے بعد پیر کو بھی دونوں جانب کی فورسز پوزیشنز سنبھالے ہوئے ہیں۔ وہاں ایک ہفتے کے دوران آٹھ سو سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اخباری نمائندوں کے مطابق شہر میں فائرنگ و دھماکوں کا سلسلہ قدرے تھم گیا ہے تاہم تناؤ برقرار ہے۔

آئیوری کوسٹ میں گزشتہ سال نومبر میں منعقدہ صدارتی انتخابات جیتنے والے وتارا کو اقوام متحدہ سمیت مغربی دنیا کی حمایت حاصل ہے اور وہ اب طاقت کا استعمال کرکے اقتدار کا حصول چاہتے ہیں۔ ان کے مقابلے پر موجودہ صدر باگبو ہیں جنہیں انتظامیہ پر کنڑول حاصل ہے۔ چار ماہ سے جاری اس کشمکش میں ایک ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ خدشہ ہے کہ آئیوری کوسٹ پھر سے 2002-03ء جیسی خانہ جنگی کا شکار ہونے جارہا ہے۔

Elfenbeinküste Abidjan Wahl Präsident Rebellen Flüchtlinge Flash-Galerie

آئیوری کوسٹ میں بد امنی کے سبب شہری شدید خوف و حراس کا شکار ہیں

واضح رہے کہ یہ سابق فرانسیسی نو آبادی اسٹریٹیجک نکتہ ء نظر سے اہم اور دنیا بھر میں چاکلیٹ و کافی کے بنیادی عنصر کوکووا کی پیداوار کے لیے سرفہرست ملک ہے۔

باگبو کے ایک فوجی کمانڈر کا کہنا ہے کہ آبیجان کا کنڑول کسی صورت مخالفین کو نہیں دیا جائے گا۔ دوسری جانب ایک مغربی سفارت کار نے بتایا کہ وتارا کے حامیوں نے ہفتہ کو صدارتی محل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی تاہم باگبو نے اپنے ارد گرد نوجوان رضا کاروں کی ڈھال بنا رکھی ہے اور ممکنہ طور پر اسی لیے حملہ نہ ہوسکا۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ باغی دھڑوں میں تقسیم کسی بڑے حملے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

جمعہ کو وتارا کے حامیوں نے سرکاری ذرائع ابلاغ پر کنڑول حاصل کرلیا تھا جو جلد ہی باگبو کی فورسز نے دوبارہ حاصل کرلیا۔ آئیوری کوسٹ کی وزارت داخلہ نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار اٹھاکر باغیوں اور ان کے مددگار فرانسیسی و اقوام متحدہ کے دستوں کا مقابلہ کریں۔ اقوام متحدہ نے سکیورٹی خدشات کے باعث ملک کے جنوبی حصے سے اپنے 200 اہلکاروں کو شمال کی جانب بھیج دیا ہے۔

Elfenbeinküste Armee NO FLASH

وتارا کے مسلح حامی

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے آئیوری کوسٹ کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ آئیوری کوسٹ میں موجود تقریباﹰ ایک ہزار فرانسیسی شہریوں نے آبیجان کے ہوائی اڈے کے پاس واقع فرانسیسی فوجی اڈے میں پناہ لے رکھی ہے۔

آئیوری کوسٹ کے فوجی سربراہ Philippe Mangou سے متعلق اطلاع تھی کہ انہوں نے باگبو کا ساتھ چھوڑ کر جنوب افریقی سفارتخانے میں پناہ لے لی تھی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ دوبارہ باگبو سے جاملے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM