1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئیوری کوسٹ میں خونریز جھڑپیں، سینکڑوں افراد ہلاک

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے کہا ہے کہ خانہ جنگی کے شکار افریقی ملک آئیوری کوسٹ میں گزشتہ منگل کوصرف ڈوئیکوئے شہر میں ہونے والی خونریز جھڑپوں میں آٹھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

default

گزشتہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں شکست کھانے والے لاراں باگبو نے فتح یاب صدارتی امیدوار الاساں وتارا کواقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ الاساں وتارا نے مسلح جھڑپوں کے بعد مغربی شہر ڈوئیکوئے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ وتارا کے حامیوں کے قبضے میں آنے والا پہلا شہر ہے جبکہ اب یہ خونریز لڑائی ملک کے سب سے اہم تجارتی شہر آبیجان کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں بھی پھیل چکی ہے۔

سب سے زیادہ شدید جھڑپ سرکاری ٹی وی چینل پر قبضے کے لیے آبیجان کے مضافاتی علاقے کوکوڈے میں ہوئی۔ یہ ٹی وی چینل وتارا کے حامیوں کے حملے کے بعد آف ایئر ہو گیا۔ واضح رہے کہ کوکوڈے ہی میں باگبو کی رہائش گاہ بھی ہے۔

Elfenbeinküste Gbagbo Polizei

تجارتی شہر آبیجان میں تعینات پولیس اہلکار

اطلاعات کے مطابق متنازعہ رہنما باگبو کی رہائش گاہ اور صدارتی محل کے گرد و نواح میں بھی شدید فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ وتارا کے مسلح حامیوں نے دو فوجی اڈوں پر بھی حملہ کیا ہے۔

کوکوڈے میں واقع سرکاری ٹی وی چینل کے مرکزی دفتر کے قریب رہنے والے کامارا آرنلڈ کے مطابق، ’ہم گولیوں کی آوازیں سن سکتے ہیں۔ ہم فوجیوں کی نقل و حرکت بھی دیکھ سکتے ہیں مگر یہاں مسلح شہری بھی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔‘

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے متعین کردہ فوجی امن مشن کے دو ہیلی کاپٹر آبیجان کے مرکز کے اوپر فضا میں دن بھر گردش کرتے رہے، تاہم ان کی طرف سے فریقین کے درمیان جاری جھڑپوں کو روکنے کے سلسلے میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں آئیوری کوسٹ میں صدارتی انتخابات کے نتائج کو اقوام متحدہ، یورپی یونین اور افریقی یونین نے تسلیم کیا تھا، تاہم باگبو نے ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے عہدہء صدارت چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور یورپی یونین باگبو سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ فوری طور پر اقتدار نومنتخب صدر وتارا کو سونپ دیں، تاہم بوگبو کی طرف سے ان تمام مطالبات کو مسلسل رد کیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وتارا کے حامیوں کی مسلسل کارروائیوں اور متعدد علاقوں پر پے در پے قبضے کے بعد باگبو کے اقتدار سے الگ ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس