1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئیوری کوسٹ: لاراں باگبو گرفتار

براعظم افریقہ کے ملک آئیوری کوسٹ کے بڑے شہر آبیجان کی سڑکوں پر فرانسیسی ٹینک گشت کرتے ہوئے باگبو کے ٹھکانے تک پہنچے اور پھر کچھ دیر بعد اقتدار پر قابض لاراں باگبو کی حراست کا اعلان کردیا گیا ہے۔

default

لاراں باگبو: فائل فوٹو

افریقی ملک آئیوری کوسٹ کے متنازعہ صدر لاراں باگبو کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرنے کی تصدیق فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے کی گئی ہے۔ باگبو کو جہاں سے گرفتار کیا گیا ہے وہ اس ٹھکانے پر گزشتہ ایک ہفتے سے محصور تھے۔ باگبو کے ساتھ ان کی اہلیہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ دونوں کو گرفتاری کے بعد سخت سکیورٹی میں شہر کے گولف ہوٹل پہنچا دیا گیا ہے۔ گولف ہوٹل بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر وتارا کی بھی بیس ہے۔

باگبو کی گرفتاری کی تصدیق وتارا کی ترجمان بامبا نے بھی کی ہے۔ گرفتاری سے قبل باگبو کے ٹھکانے کی دیواروں کو فرانسیسی ٹینکوں سے توڑ دیا گیا تھا۔ آئیوری کوسٹ کے اقتدار پر قابض صدر لاراں باگبو کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ باگبو کو فرانسیسی فوج نے اصل میں گرفتار کیا۔ اسی طرح باگبو کے ترجمان Ahoua Don Mello کا بھی کہنا ہے کہ باگبو آخری وقت پر اپنے زیر زمین بنکر سے باہر نکلے اور انہوں نے خود کو فرانسیسی فوج کے حوالے کردیا۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں افریقی ملک آئیوری کوسٹ میں اقتدار کی جنگ منطقی انجام کے قریب پہنچ گئی ہے۔

Frankreich Militär Elfenbeinküste Abidjan NO FLASH

آبیجان میں فرانسیسی فوجی

پیر کے روز آبیجان میں کئی طرح کی اہم پیش رفت کو خاص طور پر نوٹ کیا گیا تھا۔ ان میں فرانسیسی فوج اور اقوام متحدہ کے امن دستوں کا اقتدار پر قابض لاراں باگبو کی حامی فوجیوں کو نشانہ بنانا بھی تھا۔ فرانسیسی اور اقوام متحدہ کے ہیلی کاپٹروں سے راکٹ بھی فائر کیے گئے۔ صدارتی پیلس کے جانب جانے والی سڑک اور دیگر راستوں کو فرانسیسی فوج اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے بند کر رکھا ہے۔ ان میں فرانسیسی ٹینک بھی شامل ہیں۔ آج صبح سےعینی شاہدین کے مطابق آبیجان میں جنگ کا فوکس ریڈیو، ٹیلی وژن کی عمارت اور باگبو کی رہائش گاہ تھی۔ فرانسیسی فوج اور اقوام متحدہ کے دستوں کی جنگ میں شریک ہونے کی وجہ باگبو کی فوج کی جانب سے ان پر ہفتہ کے روز کی گئی گولہ باری بتائی گئی تھی۔

رپورٹ: عابد حسین⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس