1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئین کی تیاری میں تاخیر: نیپال میں ملک گیر ہڑتال

نیپال میں آج جمعہ کو نسلی اقلیتی باشندوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے سرگرم ایک ملکی تنظیم کی طرف سے قومی سطح پر عام ہڑتال کی جا رہی ہے۔

default

اس ہڑتال کا مقصد ملکی پارلیمان کے ارکان کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ نئے ریاستی آئین کی تیاری کا کام 28 مئی کی طے شدہ تاریخ تک ہر حال میں مکمل کریں۔

اس عام ہڑتال کے دوران نیپال میں آج مختلف شہروں میں تعلیمی اور تجارتی ادارے بند رہے اور سڑکیں بھی معمول کے برعکس سنسان نظر آئیں۔ اس عام ہڑتال کی اپیل نیپال کے رہنے والے قدیم مقامی قومیتوں کے باشندوں کی فیڈریشن نے کی تھی۔ پولیس کے مطابق ہڑتال کے دوران درجنوں ایسے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا، جو مختلف شہروں میں سڑکوں پر نظر آنے والی ٹریفک روک کر اس ہڑتال کو مزید کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

کٹھمنڈو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق گرفتار کیے جانے والے سیاسی کارکنوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ملکی دارالحکومت اور چند دوسرے شہروں میں عام شہریوں کی گاڑیوں پر حملے کرنے کی کوششیں بھی کیں۔ نیپال میں جو نیا ریاستی آئین تیار کیا جا رہا ہے، اس میں ممکنہ طور پر نسلی اقیلتوں کو اب تک کے مقابلے میں زیادہ حقوق دیے جائیں گے۔ لیکن فی الحال اس آئین کی تیاری 28 مئی کی پہلے سے طے شدہ تاریخ تک مکمل ہوتی نظر نہیں آتی۔

Nepal Tibet China Mönche demonstrieren in Katmandu Polizei

ہڑتال کے دوران درجنوں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا

اس تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ نیپالی سیاسی جماعتوں کے درمیا‌ن ابھی تک اس بارے میں واضح اختلافات پائے جاتے ہیں کہ نئے ملکی آئین میں کن اہم امور کا احاطہ کیا جانا چاہیے۔ نیپال میں موجود قانون ساز اسمبلی شروع میں دو سال کے لیے منتخب کی گئی تھی لیکن اس عرصے میں اسے نئے آئین کی تیاری میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی تھی۔

گزشتہ برس اس آئین ساز ادارے کی مدت میں ایک سال کی توسیع بھی کر دی گئی تھی۔ لیکن آئین کی تیاری ابھی تک وقت پر پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ کل جمعرات کو نیپالی کابینہ نے نئے سرے سے یہ تجویز پیش کر دی تھی کہ کٹھمنڈو میں آئین ساز اسمبلی کو نئے ریاستی آئین کی تیاری کا موقع دینے کے لیے مزید ایک سال کا وقت دے دیا جائے۔

اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا اس پارلیمان کی مدت میں دوسری مرتبہ بھی ایک سال کی توسیع کر دی جائے گی۔ ایسی کسی بھی نئی توسیع کے لیے موجودہ ارکان پارلیمان کی کم از کم دو تہائی اکثریت کی تائید لازمی ہو گی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس