1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

آئیبروفن اور رعشہ کی بیماری

درد دور کرنے والی مؤثر دوا آئیبروفن کے حوالے سے ایک تازہ ریسرچ شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق اس کے استعمال سے اعصابی بیماری پارکنسن سے امکانی طور پر بچا جا سکتا ہے۔ تازہ ریسرچ پر مزید تجربات جلد شروع کردیے جائیں گے۔

default

امریکہ کی ممتاز اور معروف ہارورڈ یونیورسٹی کے اسکول برائے پبلک ہیلتھ کے سینئر ریسرچر البرٹو ایسچیریو(Alberto Ascherio) کا کہنا ہے کہ سردست دنیا بھر میں اعصابی بیماری رعشہ کا کوئی شافی علاج موجود نہیں ہے۔ اس سے بچنے کا ایک چانس ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ عرصے کے لیے دور رکھا جائے اور رسک فیکٹر کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محققق کے خیال میں انسانی جسم میں آئیبروفن کے استعمال کے بعد یہ دیکھا گیا ہے کہ اس کے بظاہر بہت ہی کم نقصانات ہیں اور یہ رعشہ کی بیماری کے رسک کو مؤخر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس بیماری سے تقریباً ستائیس سے چالیس فیصد تک ایسے افراد بچ سکتے ہیں جو آئیبروفن کا ہفتہ میں دو سے تین بار تک استعمال کرتے ہیں۔

دماغی امراض کے کئی ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ آئیبروفن کے حوالے سے تازہ تحقیق کے تناظر میں رعشہ سے بچاؤ کے لیے اس کا استعمال فوری طور پر کرنا دانشمندی نہیں ہو گا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آئیبروفن کے زیادہ استعمال سے معدے میں زخم پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ان زخموں سے بعض اوقات خون بھی رسنے لگتا ہے جو شدید نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ آئیبروفن عام طور پر شدید درد کی صورت میں تجویز کی جاتی ہے۔

Parkinson Patient

امریکہ میں رعشہ کی بیماری کے ایک مریض کا اپریشن : فائل فوٹو

اس مناسبت سے ایک لاکھ پینتیس ہزار افراد پر ریسرچ کرنے کے بعد ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے۔ ان افراد میں خواتین اور حضرات دونوں شامل تھے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ رعشہ کسی دماغی خلیے کی سوزش کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور امکاناً آئیبروفن کا استعمال اس سوزش کے پیدا ہونے میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہو گا۔ طبی ماہرین پہلے سے یہ خیال رکھتے ہیں کہ درد رفع کرنے والی ادویات بعض امراض کے خلاف مدافعتی پہلو رکھتی ہیں لیکن ابھی تک ان بیماریوں کو تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایسی بیماریوں کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔

پارکنسن کا مرض یا رعشہ انسانی جسم میں کمزور اعصاب کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے قویٰ مضمحل ہونے کے ساتھ ان میں کپکپاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کے اندر کمزور اعصاب کی وجہ سے بدنی حرکات و سکنات بھی متاثر ہونے لگتی ہیں۔ زیادہ تر انسان اس مرض میں پچاس سال کی عمر کے بعد مبتلا ہوتے ہیں لیکن اب تازہ ریسرچ سے یہ معلوم کیا گیا ہے کہ اس مرض میں نوجوان بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔ امریکی نژاد کینیڈین اداکار مائیکل فوکس کو رعشہ تیس سال کی عمر میں لاحق ہوگیا تھا۔

رعشہ سے متعلق آئیبروفن کے استعمال اور اس کی افادیت کے بارے میں یہ نئی معلومات امریکہ کے طبی سائنس کے تحقیقی جریدے نیورولوجی میں شائع کی گئی ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس