1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آئن اسٹائن کی سادگی سے متعلق تحریر لاکھوں ڈالر میں نیلام

تاریخ ساز سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن کی ہاتھ سے لکھی ایک تحریر کو 1.56 ملین ڈالر میں نیلام کر دیا گیا۔ اس تحریر کی نیلامی یروشلم کے ایک نیلام گھر میں ہوئی۔

البرٹ آئن اسٹائن نے اپنے جاپان کے ایک دورے کے دوران دارالحکومت ٹوکیو میں ایک ہرکارے کو خوشگوار اور سادہ زندگی کے حوالے سے اپنا تصور لکھ کر دیا تھا۔ اس نایاب مختصر تحریر کی نیلامی یروشلم کے معروف نیلام گھر ’ونرز‘ میں ہوئی۔ اس تحریر کو ایک مداح نے 1.56 ملین ڈالر میں خریدا۔

دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گلابی ہیرا سترہ ملین یورو میں نیلام

شامی مہاجر مصور کے فن پاروں کی یونان میں نیلامی

ہیرا اتنا بڑا جتنا ٹینس بال، ستر ملین ڈالر میں نیلامی متوقع

’سویٹ جوزیفین‘ کی قیمت ساڑھے اٹھائیس ملین

نیلامی شروع ہونے سے پہلے اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس مختصر تحریری نوٹ کو شاید پانچ سے آٹھ ہزار ڈالر تک نیلام کیا جا سکتا تھا۔ ونرز آکشن ہاؤس کے ترجمان مانی شداد کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں کسی بھی تاریخی اور نایاب تحریر کی یہ ایک ریکارڈ نیلامی ہے۔ ترجمان نے خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن یہ ضرور بتایا کہ اس کا تعلق ایک یورپی ملک سے ہے۔

نابغہ روزگار ماہر طبیعیات البرٹ آئن اسٹائن نے ٹوکیو کے امپیریل ہوٹل میں قیام کے دوران ہوٹل کے فراہم کردہ پیڈ کے ایک صفحے پر لکھا تھا، ’’ایک خاموش اور سادہ زندگی سے خوشیاں زیادہ حاصل ہوتی ہیں چہ جائے کہ کامیابی کے حصول میں سکون سے محروم رہا جائے۔‘‘ یہ تحریر انہوں نے جرمن زبان میں لکھی تھی۔

Albert Einstein deutscher Physiker 1935 (Imago/United Archives International)

نابغہ روزگار ماہر طبیعیات البرٹ آئن اسٹائن

یہ واضح نہیں کہ اس نوٹ کے لکھے جانے کی وجہ کیا تھی۔ خیال کیا گیا ہے کہ پیغام لانے والے ہرکارے نے مشہور زمانہ سائنسدان سے رسماً کوئی ٹِپ وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا یا پھر اُس وقت آئن اسٹائن کے پاس سکے موجود نہیں تھے۔ جو بھی صورت حال تھی، آئن سٹائن اِس ملازم کو خالی ہاتھ جانے نہیں دینا چاہتے تھے اور انہوں نے یہ تحریر لکھ کر اُسے تحفہ کر دی تھی۔

یروشلم کے وِنرز آکشن ہاؤس میں یہ نیلامی ٹیلیفون پر اور آن لائن کی گئی۔ اس تحریر کی نیلامی شروع ہونے کے بیس منٹ بعد ہی بولی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔ نیلامی کے آخر میں دو افراد کے درمیان بڑھ چڑھ کر بولی لگانے کا سلسلہ کچھ دیر تک چلتا رہا۔

آئن سٹائن کی اس تحریر کو خریدنے والے نے اپنا نام اور شناخت مخفی رکھتے ہوئے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اُسے اِس تحریر کو حاصل کر کے انتہائی مسرت ہوئی ہے۔ اس خریدار کا مزید کہنا تھا کہ اب بھی دنیا میں ایسے لوگ ہیں، جو ایسی تاریخی اور سائنسی اشیاء کا حصول چاہتے ہیں، جو سدا بہار اور امر ہوتی ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:24

والٹ ڈزنی کی اشیاء کی نیلامی

DW.COM

Audios and videos on the topic