1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئندہ فرانسيسی صدارتی اليکشن ميں کيا کچھ داؤ پر لگا ہے؟

فرانسوا فِيَوں فرانس ميں دائيں بازو کی رپبلکن پارٹی کے صدارتی اميدوار بن گئے ہيں۔ اب ان کے سامنے فرانس اور يورپی يونين کے مستقبل کے علاوہ مغربی ممالک ميں مرکزی دھارے کی سياست سے نمٹنے جيسے چيلنجز کھڑے ہيں۔

امريکا ميں اسی ماہ منعقدہ صدارتی انتخابات ميں ڈونلڈ ٹرمپ کی کاميابی کے بعد فرانس ميں آئندہ برس اپريل یا مئی ميں ہونے والے صدارتی اليکشن میں واضح ہو سکے گاکہ قوم پرست اور عواميت پسند سياست کس طرح آگے بڑھ رہی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق آئندہ انتخابات ميں انتہائی دائيں بازو کی جماعت نيشنل فرنٹ کی سربراہ مارين لی پين ری پبلکن پارٹی کے صدارتی اميدوار فیوں کی سب سے بڑی حريف کے طور پر سامنے کھڑی ہيں۔ لی پين خود کو ’گلوبلائزيشن‘ اور سياست پر چند با اثر ممالک و افراد کے اثر و رسوخ کی مخالف کے طور پر ديکھتی ہيں۔

ری پبلکن پارٹی کے حامیوں کا ماننا ہے کہ فرانسيسی ثقافت کی بقا، اسلام پسند انتہا پسندی کے خلاف اقدامات اور جرائم کے خلاف کارروائی جيسے معاملات پر فیوں کے نظريات اور پوزيشن، نيشنل فرنٹ کی لی پين کے خلاف قوت پکڑنے ميں اہم ثابت ہوں گے۔

علاوہ ازيں پچھلے ہی ہفتے فیوں  نے اپنے ايک بيان ميں مہاجرين سے مخاطب ہو کر کہا تھا، ’’جب آپ کسی کے گھر ميں داخل ہوتے ہيں، تو اس پر قبضہ نہيں کر ليتے۔‘‘ يہ جملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے مخالفين کی قوم پرست زبان اختيار کرنے ميں بھی ذرا نہيں کترائيں گے۔

اتوار ستائيس نومبر کے روز فرانس ميں شائع ہونے والے رائے عامہ کے دو مختلف جائزوں کے مطابق صدارتی اليکشن کے دوسرے مرحلے ميں ممکنہ طور پر ری پبلکن جماعت کے اميدوار کا لی پين سے مقابلہ ہو گا، جس ميں فرانسوا فیوں سرخرو ہو جائیں گے۔

ايسا ہی کچھ سن 2002 ميں بھی ہوا تھا جب لی پين کے والد ژاں ماری لی پین  اليکشن کے دوسرے مرحلے تک پہنچ گئے تھے اور ان کے مد مقابل ری پبلکن جماعت کے ژاک شيراک تھے۔

يہ امر اہم ہے کہ اگر برطانيہ کی طرف سے يورپی يونين سے اخراج کا فيصلہ ايک بڑا دھچکا تھا، تو بلاک کی بنياد رکھنے والے ايک ملک کی حيثيت سے فرانس بھی اگر يہی رخ اختيار کرتا ہے، تو معاملات کافی بگڑ سکتے ہيں۔