1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئندہ غزہ امدادی قافلوں کی حفاظت کی جائے گی، ترک حکومت

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ آئندہ غزہ کے لیے ترک بحری امدادی قافلوں کے ہمراہ ترک جنگی بحری جہاز بھی روانہ کیے جائیں گے تاکہ گزشتہ برس فریڈم فلوٹیلا پر حملے جیسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔

default

ترک وزیر اعظم ایردوآن

عرب ٹیلی وژن الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ترک وزیر اعظم ایردوآن نے کہا ہےکہ غزہ کے لیے روانہ کیے جانے والے ترک بحری امدادی قافلوں کی حفاظت کے لیے ترک جنگی بحری جہاز بھی بھیجے جائیں گے،’ آج کے بعد  ہم اسرائیل کو ان جہازوں پر حملہ نہیں کرنے دیں گے، جیسا کہ فریڈم فلوٹیلا کے ساتھ ہوا تھا‘۔

رجب طیب ایردوآن نے مزید کہا کہ انقرہ حکومت نے ایسے اقدامات بھی اٹھائے ہیں کہ اب اسرائیل مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کی دولت سے یک طرفہ طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ ترک وزیر اعظم کے اس بیان پر  اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان Yigal Palmor نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسا بیان ہے، جس پر تبصرہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

گزشتہ برس مئی میں اسرائیلی کمانڈوز کی طرف سے غزہ بحری امدادی قافلے پر کارروائی کے نتیجے میں 9 ترک باشندے مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد سے ترکی اور اسرائیل کے مابین سفارتی سطح پر کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ ترک حکومت کا مطالبہ ہے کہ غزہ امدادی قافلے پر کی گئی کارروائی پر اسرائیل سرکاری طور پر معافی مانگے اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کر دے۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کی کارروائی دفاعی تھی اس لیے اس پر معافی ہر گز نہیں مانگے جائےگی جبکہ غزہ میں موجود جنگجوؤں کے لیے ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے غزہ کی ناکہ بندی ناگزیر ہے۔

Mavi Marmara Gaza Flotte NO FLASH

فریڈیم فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کی کارروائی کے بعد سے اسرائیل اور ترکی کے سفارتی تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں

خطے میں امریکہ کے دو اہم اتحادی ملکوں اسرائیل اور ترکی کے مابین اختلافات شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تمام تر فوجی معاہدوں کو معطل کرنے کے علاوہ اس کا سفیر بھی بے دخل کر دیا ہے۔ انقرہ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کو عالمی عدالت انصاف ICJ میں چیلنج کرے گی۔

اسرائیل اور یونان نواز جنوبی قبرص مشرقی بحیرہ روم  کے علاقوں میں قدرتی وسائل کے علاوہ زیر سمندر تیل اور گیس کے ذخائر  کی تلاش کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم انقرہ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ  ترک نواز شمالی قبرص کی سکیورٹی اور مفادات کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے کی مجاز ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس