1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آئمہ پر جاسوسی کا شبہ، جرمن پولیس کے چھاپے

جرمن پولیس نے چار مختلف مقامات پر واقع مساجد کے آئمہ کے گھروں پر چھایے مارے ہیں۔ ان پر جاسوسی کا شبہ ہے۔ خیال ہے کہ یہ آئمہ ترک مہاجرین اور تارکینِ وطن کی جاسوسی انقرہ حکومت کے لیے کرتے رہے ہیں۔

جرمنی کے وفاقی دفتر استغاثہ اور وزیر انصاف نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے چار مختلف مساجد کے اماموں کے اپارٹمنٹس پر چھاپے مار کر تلاشی لی ہے۔ ان آئمہ پر شبہ ہے کہ وہ انقرہ حکومت کے لیے جاسوس کرتے تھے کہ ترک تارکین وطن میں کون کون امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کا حامی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی مدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔

جرمن پولیس کے یہ چھاپے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے وفاقی صوبوں میں مارے گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ حکومت کے حامی آئمہ پر چھاپوں سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ممالک جرمنی اور ترکی کے درمیان انتہا پسندوں کے علاوہ مہاجرین کے معاملے پرمزید تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔

جرمنی کے دفتر استغاثہ کے مطابق جن آئمہ کے اپارٹمنٹس کی تلاشی لی گئی ہے، اُن کو انقرہ حکومت کے مذہبی ادارے دیانت نے گزشتہ برس بیس ستمبر کو ایک خط کے ذریعے ہدایت کی تھی کہ وہ اُن افراد پر نظر رکھیں جو گولن کی مذہبی و سماجی تحریک خمت کے حامی ہیں یا ہمدردی رکھتے ہیں۔ جرمنی میں ترک تارکین وطن کی مساجد کے لیے اماموں کی تنظیم دیتب (Ditib) کہلاتی ہے۔

Deutschland Hessen - Durchsuchungen wegen Terrorverdachts (Getty Images/T. Lohnes)

جرمنی میں چار مساجد کے اماموں پر ترک حکومت کی جاسوسی کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے

جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس کے مطابق مشتبہ چاروں امام دیتیب کے رکن ہیں۔ جرمنی کی ترک مساجد کے لیے دیتیب ہی کسی امام کا انتخاب کر کے اُسے ترکی میں تعینات کرتی ہے۔ جرمنی میں ترکی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی تعداد تیس لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ماس نے اس کا اعتراف کیا کہ جرمنی میں فعال آئمہ کی تنظیم دیتیب پر ترک حکومت کا اثر بہت زیادہ ہے۔

جرمن دفتر استغاثہ نے گزشتہ ماہ اس معاملے کی چھان بین شروع کی تھی کہ ترک تارکین وطن میں انقرہ حکومت کے خفیہ ادارے کس حد تک فعال ہیں۔ یہ چھان بین ایک رکنِ پارلیمنٹ کی شکایت پر شروع کی گئی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی یورپ میں مخبروں کا ایک نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ برس کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہزاروں ترک باشندوں نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائی تھیں۔