1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آئس لینڈ اور وہیل مچھلیاں: شکار بھی، سفاری بھی

یورپی ملک آئس لینڈ طویل عرصے سے وہیل مچھلیوں کے متنازعہ شکار کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔ لیکن اب وہاں سیاحتی دلچسپی کا ایک ایسا رجحان روز پکڑتا جا رہا ہے، جسے وہیل سفاری کا نام دیا جاتا ہے۔

default

بہت چھوٹے پیمانے پر آئس لینڈ میں وہیل سفاری کا آغاز سن 1990 کے عشرے میں ہوا تھا۔ اتنے برس گزر جانے کے بعد اب یہ رجحان بہت مقبول ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے ہر سال شمالی یورپ کی اس جزیرہ ریاست کا رخ کرنے والے سیاحوں کی تعداد لاکھوں میں رہتی ہے۔

سن 2006 میں وہیل سفاری کے حامیوں نے اس وقت شدید احتجاج کرنا شروع کر دیا تھا، جب حکومت نے تجارتی پیمانے پر وہیل مچھلیوں کے شکار کی دوبارہ اجازت دے دی تھی۔ ان دنوں دنیا بھر سے وہیل سفاری ٹورز کے لیے زیادہ تر غیر ملکی سیاح گرمیوں کے موسم میں آئس لینڈ کا رخ کرتے ہیں۔

Wal Pazifik Hawaii Flash-Galerie

شمالی آئس لینڈ کے ماہی گیری کے لیے مشہور ایک گاؤں میں اپنی ایک چھوٹی سی ساحلی سیاحتی کمپنی چلانے والے ایک 58 سالہ شہریHoerdur نے کہا کہ وہیل مچھلیوں کا تجارتی شکار آئس لینڈ کی سیاحت اور کاروباری شعبے دونوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔

ہیردوؤر نامی آئس لینڈ کے اس شہری کے مطابق اس کے ملک میں قومی وہیلنگ کمیشن کے دعویٰ ہے کہ وہیل مچھلی کا شکار اس لیے کیا جاتا ہے کہ اس مچھلی کے گوشت کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ لیکن ہیردوؤر نے کہا کہ وہیل مچھلی کے گوشت کی منڈی نہ ہونے کے برابر ہے۔

Flash-Galerie Orca Wal

اس کے برعکس ابھی حال ہی میں بین الاقوامی وہیلنگ کمیشن کے سالانہ اجلاس کے موقع پر برطانیہ کے جزیرے جرسی میں اس اجتماع میں شریک آئس لینڈ کے وہیلنگ کمیشن کے سربراہ نے بالکل مختلف موقف اختیار کیا۔

تھوماس ہائڈر نامی اس اہلکار کا کہنا تھا کہ وہیل مچھلیوں کو دیکھنا اور ان کا گوشت کھانا دونوں کام ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اچھی طرح چل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سیاحتی شعبے کے ساتھ ساتھ ہوٹلنگ کی ملکی صنعت کو بھی ترقی دی جا سکتی ہے۔

آئس لینڈ اور ناروے دنیا کے وہ دو ملک ہیں، جہاں تجارتی بنیادوں پر وہیل مچھلیوں کے شکار کی ابھی تک اجازت ہے۔ انہیں انٹر نیشنل وہیلنگ کمیشن نے استثنائی طور پر یہ اجازت دے رکھی ہے، جس کی وجہ سے اس عالمی ادارے پر بھی سخت تنقید کی جاتی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس