1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئر لینڈ میں ریفرنڈم جاری

آئر لینڈ میں لزبن ٹریٹی پر آج دوسری مرتبہ ریفرنڈم ہو رہا ہے۔ اس سے قبل وہاں یورپ میں اصلاحات سے متعلق اس معاہدے پر گزشتہ برس ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں آئرش عوام نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

default

ریفرنڈم سے ایک روز قبل ڈبلن کی ہینری اسٹریٹ پر عوام کا ہجوم تھا۔ اس ہجوم میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد بھی تھی، جو سفید رنگ کی ٹی شرٹس پہنے ہوئے تھے۔ ایک طالب علم نے کہا: ’’ہم یہاں لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں میں ریفرنڈم کے بارے میں لیفلٹس تقسیم کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ہم لزبن ٹریٹی کی اہمیت بھی اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ لوگ اس کے حق میں ووٹ دیں۔‘‘

Bildgalerie Jahresrückblick 2008 Juni Irland

پیٹرک مولوئے کا تعلق ان گروپوں میں سے ایک چھوٹے گروپ سے ہے جو اصلاحات کے اس معاہدے کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ پیٹرک کے خیال میں صرف یورپی یونین کے ساتھ رہ کر ہی اقتصادی بحران کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے تھوڑی دور ایک اور اسٹال تھا، جس پر جیمز بریڈلی اور ان کے دوست موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ لزبن ٹریٹی کے نافذ ہونے کے بعد آئر لینڈ میں اسلحہ سازی کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ ’’ عمر رسیدہ افراد اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیں۔ جبکہ نوجوان نسل کی بڑی تعداد اس کی مخالفت کرے گی۔ دونوں کے درمیان ایک بڑا فرق موجود ہے۔‘‘

ملک کی مخلوط حکومت نے لزبن ٹریٹی میں اگرچہ کوئی خاص تبدلیی یا ترامیم نہیں کیں تاہم چھوٹی مراعات کے ساتھ اسے دوبارہ عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ عالمی مالیاتی بحران کے تناظر میں اگر آئرش عوام اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیتے ہیں، تو اس صورتحال میں انہیں یورپی یونین کا تعاون حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کے پاس یہ موقع بھی ہے کہ وہ اس معاہدے کے خلاف فیصلہ دےکر ملکی وزیراعظم کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیں۔ ماہرین کے خیال میں اقتصادی بحران کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے آئرلینڈ کو اس معاہدے کی ضرورت ہے۔ اگرآئرش عوام نے ایک مرتبہ پھر اس ٹریٹی کو مسترد کر دیا تو لزبن معاہدے کے مستقبل کے تاریک ہوجانے کا خدشہ موجود ہے۔

یورپ میں اصلاحات سے متعلق معاہدے لزبن ٹریٹی پر ریفرنڈم سے قبل کرائے جانے جائزوں کے مطابق 25 فیصد افراد اس کے حق میں ووٹ دیں گے۔ آج ہونے والے اس ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان ہفتے کے روزکیا جائے گا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گل