1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئرین طوفان: نیویارک کے لیے خطرہ ٹلا نہیں

ہفتہ کی ڈھلتی سہ پہر سے امریکہ کا انتہائی مصروف شہر نیویارک، آئرین نامی سمندری طوفان کے خطرے کے پیش نظر خاموشی کی چادر تان چکا ہے۔ حکام حفاظتی انتظامات مکمل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

default

سارا شہر آہستہ آہستہ خاموشی کی گرفت میں آ گیا ہے۔ بحر اوقیانوس سے اٹھنے والا سمندری طوفان آئرین شہر کے علاقے مین ہٹن سے اتوار کو ٹکرائے گا۔ مین ہٹن کا مصروف علاقہ مکمل پرسکون ہو کر تیز رفتار جھکڑوں اور شدید بارشوں کا منتظر ہے۔

بازار اور مارکیٹیں بند کر دی گئی ہیں۔ پل، سڑکیں، راستے اور تمام گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ امریکی براڈ وے یا تھیٹر کے شوز منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ ہفتہ کی سہ پہر کاروبار ٹھپ ہو گیا۔ بروکلین پارک کے اسٹاپ پر درجنوں افراد پریشانی کے عالم میں آخری ٹرام کے منتظر تھے۔ میٹرو سروس پیر کے روز کسی وقت بحال ہو سکے گی۔ امریکہ میں زیر زمین ٹرانسپورٹ کا سب سے بڑا نظام نیو یارک شہر میں قائم ہے۔ سمندری طوفان کے پیش نظر اس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ جن اسٹیشنوں میں پانی داخل ہو گا وہاں سے پمپوں کے ذریعے پانی نکالنے کا بھی بندوبست کر لیا گیا ہے۔

نیویارک شہر کے ہوائی اڈوں کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔ شہر میں پہنچنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی اندرون ملک اور بین الاقوامی سات ہزار پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔

Hurrikan Irene in der Karibik Flash-Galerie

آئرین طوفان کی وجہ سے اب تک پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

 نشیبی علاقوں میں سیلاب کے خطرے کے باعث پونے چار لاکھ کے قریب لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت بھی کی جا چکی ہے۔ یہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا کہ کتنے افراد نے انخلاء کی ہدایت پر عمل کیا ہے۔ نیو یارک شہر کے میئر مائیکل بلوم برگ کے مطابق پچاس سے اسّی فیصد لوگ منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ دوسرے شہروں کو روانہ ہو چکے ہیں۔ شہر میں قائم شیلٹرز میں صرف چودہ سو افراد پہنچے ہیں۔ ہسپتالوں اور نرسنگ ہوسٹلوں سے بیماروں، معذور اور بزرگ شہریوں کی منتقلی جمعرات سے جاری تھی۔ بجلی کے محکمے کے اعلان کے مطابق طوفانی صورت حال کے مدنظر چھ ہزار سے زائد مکینوں کی بجلی منقطع کردی گئی ہے۔

آئرین طوفان کی زد میں نیویارک شہر کے کئی تاریخی مقامات آنے کا خطرہ ہے۔ ان میں مجسمہٴ آزادی اور اقوام متحدہ کی عمارت بھی شامل ہے۔ گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ واقعات کی زد میں آنے والی عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ جاری تعمیراتی کام روک دیا گیا ہے۔ تعمیر کے لیے کھڑی بلند اور بھاری کرینوں کے حصوں کو بھی عارضی طور پر الگ الگ کردیا گیا ہے۔ سیاحت کے استعمال میں لائی جانے والی کشتیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔

شہر کی عمارتوں میں تقریباً تمام اہم داخلے کے مقامات پر ریت سے بھرے تھیلے رکھ دیے گئے ہیں تا کہ پانی عمارتوں اور تہ خانوں میں کم از کم جا سکے۔ دریائے ہڈسن کے ساتھ ایسٹ دریا میں بھی شدید طغیانی کا خدشہ ہے۔

 

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس