1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئرلینڈ کے لئے بیل آؤٹ پیکج کا حتمی اجلاس

یورو زون کے وزرائے خزانہ نے آئرلینڈ کے لئے 85 بلین یورو کے قرضے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

default

اس مالیاتی پیکیج سے امید کی جا رہی ہے کہ یورپی مارکیٹوں میں استحکام پیدا ہو گا۔ اس خطیر قرضے کے ہنگامی مالیاتی پیکیج کو یوروزون مالیاتی منڈیوں میں استحکام اور آئرلینڈ کی معیشت کے دیگر یورپی ممالک پر پڑنے والے اثرات سے بچاؤ کے لئے انتہائی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک بیلجیئم کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ برسلز میں رکن ممالک کے وزرائے خزانہ کی یہ ملاقات یونان کے لئے ہنگامی مالیاتی پیکیج کے اجراء کے بعد اس نوعیت کی دوسری سب سے بڑی اور اہم ملاقات ہے۔

یوروزون میں شامل ممالک کے وزرائے خزانہ کی یہ ملاقات اتوار کی دوپہر شروع ہو ئی اور اس کے بعد یورپی یونین کے دیگر ممالک کے وزرائے خزانہ بھی اس میں شامل ہو گئے۔

اس سے قبل آئرلینڈ کی طرف سے ایک اعلیٰ حکومتی وفد نے ہفتے کے روز یورپی یونین اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے حکام سے ڈبلن کے ایک ہوٹل میں ملاقات کی۔ اس موقع پر اس ہوٹل کے باہر ہزاروں افراد نے اس مالیاتی پیکیج کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس قرضے کے نتیجے مین آئرلینڈ کی خودمختاری کو زبردست زک پہنچے گی۔

Proteste gegen irisches Sparpaket in Dublin erwartet NO FLASH

آئر لینڈ میں اس مالیاتی پیکیج کی مخالفت کی جا رہی ہے

ملکی مالیاتی اداروں کے لئے یکے بعد دیگرے مالیاتی پیکیجز کی فراہمی کے باعث آئرلینڈ کا بجٹ خسارے اس ملک کی مجموعی پیداوار کے ایک تہائی تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئرلینڈ کے لئے اس خطیر قرض کی فراہمی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا مالیاتی بحران کے شکار دیگر یورپی ممالک سپین اور پرتگال کی مالیاتی منڈیوں پر اعتماد میں اضافہ ہو گا۔

آئرلینڈ کی اپوزیشن جماعتیں اس مالیاتی پیکیج کی سخت مخالفت کر رہی ہیں۔ ماہرین اور عوامی جائزوں کے مطابق یہ جماعتیں آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ اپوزیشن کے مطابق وہ ایسے کسی مالیاتی پیکیج کو ہر گز قبول نہیں کرتیں۔

آئرش میڈیا کے مطابق یورپی یونین کے اس قرضے کے عوض آئرلینڈ کو چھ اعشاریہ سات فیصد سالانہ کی شرح سے سود ادا کرنا ہو گا جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ سود کی یہ شرح اصل سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس