1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'آئرلینڈ ریفرنڈم کے نتیجے کا احترام کرنا لازمی ہے'

لزبن معادہے کے خلاف آئرلینڈ ریفرنڈم کے نتیجے کے باوجود برطانوی وزیراعظم گارڈن براٴون یورپی یونین میں اصلاحات کےعمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

default

لزبن معاہدہ :نہیں نہیں

گارڈن براٴون نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لزبن ٹریٹی کی توثیق کے سلسلے میں قانونی پوزیشن بالکل واضح ہے۔ 'معاہدے کی تصدیق اور توثیق کے لئے یہ لازمی ہے کہ یونین کے تمام ممالک اس پر دستخط کریں۔ اس کے بعد ہی یہ معاہدہ نافذالعمل ہوسکے گا۔'

Irland EU Volksabstimmung zu Lissabon Vertrag Bus

آئرلینڈ کی عوام کی اکثریت نے لزبن معاہدے کے خلاف ووٹ دیا

براٴون نے کہا کہ یونین کے ہر ممبر ملک کو معاہدے کی توثیق کے عمل کو کامیاب بنانے کے لئے خود اپنے طور پر فیصلہ کرنا ہوگا۔ 'اور جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو ہم ہاٴوس آف لارڈس میں اس پر بحث کے عمل کو جاری رکھیں گے۔'

برطانیہ میں رواں ہفتے لزبن ٹریٹی کا ہاٴوس آف لارڈس میں پاس ہونا تقریباً طےہے۔ لزبن ٹریٹی کو برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا میں حمایت حاصل ہونے کے بعد ملکہ الزبتھ دوم کی طرف سے اس کی تصدیق ہونا ضروری ہے۔

دوسری جانب یورپی بلاک کے ستائیس ممبر ممالک کے وزراء خارجہ موجودہ بحران پر قابو پانے کے حوالے سے لکسیمبورگ میں بات چیت کررہے ہیں۔

آئرلینڈ کے وزیر خارجہ میخائل مارٹن کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ کے ریفرنڈم کے نتائج سے صورتحال پیچیدہ ہوگئی ہے تاہم ہمیں اپنی عوام کی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔ آئرلینڈ کے وزیر خارجہ نے نامہ نگاروں کو اس حوالے سے بتایا کہ ریفرنڈم کے ذریعے آئرلینڈ کے لوگوں نے جمہوری طریقے سے اپنا فیصلہ سنایا ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہئیے۔

BdT EU Vertrag Referendum Stimmungsbarometer

لزبن معاہدے کی توثیق یا تردید کے لئے ریفرنڈم

یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک سلووینیا کے وزیر خارجہ دمیتری روپیل نے کہا کہ آئرش ریفرنڈم کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا: 'جمہوریت اور جمہوری فیصلوں کی عزت کرنا بے حد ضروری ہے۔'


DW.COM